’وہ زندہ ہیں‘، دھرمیندر کی موت کی خبروں پر اہلِ خانہ کا سخت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
لیجنڈری اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ ہیما مالنی نے اپنے شوہر اور معروف فلم اسٹار دھرمیندر کی موت سے متعلق پھیلنے والی جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور صحتیاب ہو رہے ہیں۔
گزشتہ شب سوشل میڈیا پر دھرمیندر کے انتقال کی افواہیں تیزی سے گردش کرنے لگیں، جس کے بعد مداحوں اور فلمی دنیا میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم ہیما مالنی نے ان خبروں کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی جھوٹی اطلاعات پھیلانا ناقابلِ معافی عمل ہے۔
انہوں نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابلِ معافی ہے۔ ذمہ دار میڈیا ادارے کسی ایسے شخص کے بارے میں جھوٹی خبریں کیسے پھیلا سکتے ہیں جو علاج کے دوران بہتری کی جانب گامزن ہے؟ یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے ادبی پر مبنی ہے۔ براہ کرم خاندان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے‘۔
What is happening is unforgivable! How can responsible channels spread false news about a person who is responding to treatment and is recovering? This is being extremely disrespectful and irresponsible.
— Hema Malini (@dreamgirlhema) November 11, 2025
دوسری جانب دھرمیندر کی صاحبزادی ایشا دیول نے بھی انسٹاگرام پر ایک بیان میں افواہوں کی تردید کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے والد کی حالت مستحکم ہے۔
انہوں نے لکھا کہ میڈیا بے بنیاد خبریں پھیلا رہا ہے۔ میرے والد کی صحت مستحکم ہے اور وہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔ ہم تمام مداحوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو پرائیویسی دی جائے۔ آپ سب کی دعاؤں کا شکریہ۔
View this post on Instagram
A post shared by ESHA DEOL (@imeshadeol)
ذرائع کے مطابق، دھرمیندر کو گزشتہ روز ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں طبیعت ناساز ہونے پر داخل کرایا گیا تھا، جہاں انہیں ڈاکٹروں کی خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
ہیما مالنی اور ایشا دیول دونوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں اور خاندان کو اس وقت سکون اور پرائیویسی فراہم کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشا دیول بالی ووڈ دھرمیندر دھرمیندر موت ہیما مالنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشا دیول بالی ووڈ دھرمیندر موت ہیما مالنی ہیما مالنی
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ