اجتماع عام کی تیاریاں ‘ ایونٹ کوریج ورکشاپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-08-8
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت اجتماع عام کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں ، میڈیا ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ادارہ نورِ حق میں ایونٹ کوریج ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں میڈیا ٹیم کو تاریخی ’’اجتماعِ عام‘‘ 2025 (21،22،23 نومبر، مینار پاکستان لاہور) کی کوریج کے حوالے سے تربیت فراہم کی گئی۔ ڈپٹی سیکرٹریز میڈیا ڈپارٹمنٹ عالیہ خالد، سعدیہ طاہر اور اسریٰ غوری نے ورکشاپ کراتے ہوئے شرکا کو کوریج کے جدید تقاضوں، تکنیکی اصولوں، تصاویرووڈیوز اور انٹرویوز کے درست طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ ورکشاپ میں عملی مشق کے ذریعے وڈیو و فوٹو رپورٹنگ، سوشل میڈیا اپڈیٹس اور سوشل ایپس پر اپ لوڈنگ کی تیاری کی تربیت دی گئی۔اس موقع پر نگراں میڈیا ڈپارٹمنٹ ثمرین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اجتماعِ عام 2025 پاکستان کی خواتین کے لیے تاریخی اور انقلابی سنگ میل ثابت ہوگا۔ میڈیا ٹیم اس موقع پر عوامی جوش و جذبے کو ُاجاگر کرنے اور مثبت تبدیلی کا پیغام عام کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔عالیہ خالد نے کہا کہ تصویری رپورٹنگ سوچ اور عزم منتقل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے، اس لیے ٹیم کے ہر رکن کو پوری ذمے داری، تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ بھر پور کام کرنا ہوگا۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اجتماعِ عام کے موقع پر میڈیا کوریج کو مثالی بنائیں گے اور اس اجتماع کو تاریخ کا روشن باب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ