بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں میٹرو سٹیشن کے قریب دھماکا، 9 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں میٹرو سٹیشن کے قریب دھماکا، 9 افراد ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
دہلی(آئی پی ایس ) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دھماکا لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے نزدیک کھڑی ایک گاڑی میں ہوا۔ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔دہلی فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد 6 گاڑیاں اور 3 رکشے آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 9 افراد کی لاشیں سپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق 15 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، ابتدائی امداد جاری ہے، 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکے کے بعد دہلی میں سکیورٹی کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتاحیات کسی کو عدالتی کارروائی سے تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کیخلاف ہے: مفتی تقی عثمانی تاحیات کسی کو عدالتی کارروائی سے تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کیخلاف ہے: مفتی تقی عثمانی آئینی ترمیم منظور: اسحاق ڈار کی سینیٹرز اور اتحادی جماعتوں کو مبارکباد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکا، متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو مستعفی ہوگئے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی کی صحت کے حوالے سے افواہوں کی تردید سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی 59شقوں کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، اپوزیشن کا شور شرابہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔