بنگلہ دیش کی نئی کابینہ نے حلف اٹھالیا، وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیرِ اعظم طارق رحمان نے تیرہویں قومی پارلیمانی انتخابات کے بعد عہدہ سنبھال لیا ہے اور 49 رکنی کابینہ تشکیل دے دی ہے، جبکہ حکومت کی 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم دفاع، عوامی انتظامیہ، ڈاک و ٹیلی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور نوجوانان و کھیل کی وزارتوں کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان سے احسن اقبال کی ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت
نئی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس بدھ سہ پہر 3 بجے سیکریٹریٹ میں ہوگا۔
اہم تقرریاںبی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو بلدیات، دیہی ترقی اور کوآپریٹوز کی وزارت سونپی گئی ہے، جبکہ میر شاہ عالم اسی وزارت میں وزیرِ مملکت ہوں گے۔
وزارتِ خزانہ و منصوبہ بندی امیر خسرو محمود چوہدری کو دی گئی ہے، جب کہ اتحادی رہنما زوناید ساقی وزیرِ مملکت مقرر ہوئے ہیں۔
بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد کو وزارتِ داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔
خارجہ، اطلاعات اور دیگر وزارتیںڈاکٹر خلیل الرحمن وزیرِ خارجہ مقرر ہوئے ہیں جبکہ شمع عبید اسلام وزیرِ مملکت برائے خارجہ ہوں گی۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات ظاہر الدین سواپن کے سپرد کی گئی ہے اور یاسر خان چوہدری وزیرِ مملکت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا
دیگر اہم تقرریوں میں اقبال حسن محمود ٹکو کو توانائی، سردار سخاوت حسین باکول کو صحت، اور امین الرشید کو زراعت و ماہی پروری کی وزارت دی گئی ہے۔
کابینہ میں ماحولیات، سڑکیں و پل، سماجی بہبود، مذہبی امور، ثقافت اور دیگر شعبوں کے لیے بھی وزرا اور وزرائے مملکت مقرر کر دیے گئے ہیں، جب کہ عوامی انتظامیہ اور نوجوانان و کھیل کے لیے وزرائے مملکت کی ذمہ داریاں بالترتیب عبدالباری اور سابق قومی فٹبالر امین الحق کو سونپی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ڈھاکا طارق الرحمان وزارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا طارق الرحمان بنگلہ دیش گئی ہے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔