قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قانون شہادت بل منظور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا قانون شہادت بل بحث کے بعد منظور کرلیا۔
اجلاس کے دوران ڈرافٹمین وزارت قانون نے بتایا کہ ترمیمی بل آرٹیکل 59، 61 اور 84 میں معمولی ترمیم کر کے پیش کیا ہے۔
اس موقع پر رکن کمیٹی سید حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ فارنزک کے لیے ایکسپرٹ کی تعریف واضح ہونی چاہیے، ہر کوئی کھڑا ہو کر کہہ دیتا کہ وہ فرانزک ایکسپرٹ ہے۔
اس پر نمائندہ وزارت قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 59 میں ایکسپرٹ کی تعریف واضح کی گئی ہے۔ فارنزک میں ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کو ہم نے لازمی قرار دیا تو مسائل جنم لیں گے۔
نمائندہ وزارت قانون نے کہا کہ عدالت کو جب فارنزک ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ آرڈر کردیتی ہے۔
سیکریٹری وزارت قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ ہم نے ہینڈرائٹنگ ایکسپرٹ لازمی قرار دیا تو آرٹیکل 59 کو مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑے گا۔
اس پر رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ ہر کیس میں تو یہ چیز سامنے نہیں آتی جس پر نمائندہ وزارت قانون و انصاف نے کہا کہ ہم اس پر 200 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔
کمیٹی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم جو 200 سال سے کر رہے ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ ٹھیک ہو۔
کمیٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ اس معاملے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ قانون و انصاف نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔