ڈیڑھ کروڑ کے زیورات اور ایک کروڑ کا لباس، مولانا طارق جمیل نے نکاح پڑھایا، ڈاکٹر نبیہہ کی شادی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا اسٹار اور میک اپ ایکسپرٹ ڈاکٹر نبیہہ علی خان کی شادی ان دنوں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی دوست حارث کھوکھر سے نکاح کر لیا جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔
ان کے مہنگے عروسی لباس اور قیمتی زیورات نے بھی مداحوں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے۔ ڈاکٹر نبیہہ کے مطابق انہوں نے شادی کے موقع پر جو سونے کا زیور پہنا تھا وہ 40 تولے کا ہے جس کی مالیت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے ہے، جبکہ ان کا عروسی لباس بھی تقریباً 1 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا۔
Motivational speaker Dr.
— Fatima habib (@faty_345) November 8, 2025
ان کا نکاح مولانا طارق جمیل کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جہاں معروف عالمِ دین نے خود نکاح پڑھایا۔ تقریب میں قریبی دوستوں، اہلِ خانہ اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
Nikah is being performed by Maulana Tariq Jamil of social media influencer Dr Nabiha and her fiancé Haris Khokhar. The groom is busy on his mobile making TikTok videos. pic.twitter.com/4eNK2ZiuQw
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) November 9, 2025
یاد رہے کہ اس سے قبل ایک انٹرویو میں ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی پہلی شادی کم عمری میں خود سے 15 سال بڑے شخص سے ہوئی تھی، جو بعد ازاں انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے کبھی دوسری شادی کا نہیں سوچا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر نبیحہ ڈاکٹر نبیحہ شادی ڈاکٹر نبیحہ نکاح طارق جمیل مولانا طارق جمیل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیحہ ڈاکٹر نبیحہ شادی ڈاکٹر نبیحہ نکاح طارق جمیل مولانا طارق جمیل طارق جمیل انہوں نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔