ن لیگ اور پی پی کا اصلی چہرہ سامنے آ چکا، چودھری اشفاق
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-08-7
ڈیرہ اسماعیل خان (صباح نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری چودھری اشفاق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے نے وہ تمام حقیقتیں بے نقاب کر دی ہیں جو برسوں سے عوام کے سامنے چھپائی جا رہی تھیں۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ جیسے عوامی نعرے لگانے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا اصل چہرہ اب قوم کے سامنے آچکا ہے۔ چودھری اشفاق ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ یہ پارٹیاں صرف اقتدار کے حصول کیلیے عوامی جذبات سے کھیلتی رہیں، لیکن عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی پاکستانی عوام اور سیاسی کارکنوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور عقل کی بتی روشن نہیں ہوتی تو پھر واقعی اللہ ہی حافظ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہمیشہ اسلام، آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کی محافظ رہی ہے اور مستقبل میں بھی حق و سچ کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔