data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ ،مرکزی نائب صدر تشکیل احمد صدیقی ، نائب صدر قاسم جمال، جنرل سیکریٹری محمد عمر شر، NLF ڈہرکی زون کے صدر عبد الفتاح ملک ، جنرل سیکریٹری عبد الستار سیال ، حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سنیئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکریٹری اعجاز حسین ، انفارمیشن سیکریٹری محمد احسن شیخ اور دیگرنے اپنے مشترکہ بیان میں نوری آباد اور کوٹری سائٹ کے بڑے صنعتی زون قائم ہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں محنت کش اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں بد قسمتی سے نوری آباد اور کوٹری کے محنت کش تمام لیبر قوانین اور کم از کم اجرت کے قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے کلیل تنخواہوں پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں اور کسی بھی قسم کی قانونی مراعات انہیں حاصل نہیں ہے نوری آباد کی تمام فیکٹری اور کارکخانہ، ٹیکسٹائل انڈسٹریوں میں محنت کشوں کے ساتھ 8 گھنٹے ڈیوٹی کے بجائے 12 سے 14گھنٹے مشقت لی جا رہی ہے یہ ہی حال کوٹری صنعتی علاقہ کا ہے جس میں بھی لیبر قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں تمام صنعتکار محنت کشوں کو ظلم کی چکی میں پیس رہے ہیں اور انکی مجبوریوں سے مفادات حاصل کر رہے ہیں جبکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے افسران نے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے محنت کشوں کی بڑی تعداد مختلف بیماریوں اور حادثات کا شکار ہو رہی ہے ۔شکیل احمد شیخ نے کہا کہ کوٹری کی نیشنل اسپینگ فیکٹری میں کام کرتے ہوئے محنت کش کی آنکھ ضائع ہو گئی جس کی شکایت بھی متعلقہ لیبر آفیسر کو کی لیکن کسی قسم کی کوئی سناوئی نہیں ہوئی جس سے اس غریب کی دوسری آنکھ بھی متاثر ہے ایسا ہی حال نوری آباد کے محنت کشوں کا ہو رہا ہے لہذا لیبر ڈیپارٹمنٹ او ر متعلقہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے افسران فوری طور پر ان فیکٹریوں کا دورہ کریں اور حقیقی معائنوں میں محنت کشوں کا نمائندہ بنتے ہوئے انکے جائز قانونی اور صحت مندانہ ماحول فراہم کرنے کے لئے فیکٹریوں میں اقدامات کئے جائیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم