پاکستان کا بوسیدہ نظام عوامی دھکے کی مار ہے ،عنایت الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوشہرہ (این این آئی) امیر جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ حاجی عنایت الرحمن نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی کا موجودہ عشرہ انقلابی تبدیلیوں میں سر فہرست ہے پاکستان کا بوسیدہ نظام اب ایک عوامی دھکے کی مار ہے جس کے لئے حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان کے مظلوم عوام کو 21,22,23نومبر مینار پاکستان کے سائے تلے قیام پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ،بدل دو نظام ،کے نعرے کے تحت بلایا ہے نظام کی تبدیلی کی اس عظیم تحریک کا یہ اجتماع عام ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے ضلعی ہیڈکوارٹر میں ضلعی مجلس شوری ،زون اور مقامی سطح کی قیادت کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہوئے کیا حاجی عنایت الرحمان نے مزید کہا کہ گلوبل سرمایہ دارانہ نظام کے مرکز نیویارک میں ایک مسلمان زہران ممدانی کے ہاتھوں شکست نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات کے باوجود انقلابات اور تبدیلیاں ممکن ہیں انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے شہروں اور دیہاتوں نے بھی اس حقیقت کی گواہی دی ہے انہوں نے کہا کہ ،بنوقابل اور عوامی کمیٹیوں کے زریعے پاکستان کے عوام خصوصا نوجوان انقلابی چھتری کی نیچے متحد ہو رہے ہیں اور ضلع نوشہرہ مینار پاکستان لاہور کے مقام پر تین روزہ اجتماع عام اور بدل دو نظام میں فعال اور ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔