وزیراعلیٰ نے طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے نظام کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز ’’اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم‘‘ (ایس اے ایم آر ایس) کا افتتاح کیا جسے انہوں نے ’’ایک انقلابی تبدیلی لانے والا اور قومی سطح پر قابلِ تقلید ماڈل‘‘ قرار دیا جو تعلیم میں اصلاحات کے مرکز میں ٹیکنالوجی اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو رکھتا ہے۔ مقامی ہوٹل میں صوبائی سطح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ایس اے ایم آر ایس پہلی مرتبہ سندھ یا پاکستان کے کسی بھی صوبے میں متعارف کرایا گیا ایسا جامع ڈیجیٹل نظام ہے جو طلبہ کی حاضری، اسکول کے بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی نتائج کو باہم جوڑتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ صرف ایک مانیٹرنگ ٹول نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو ہمیں مفروضوں کے بجائے اعداد و شمار پر مبنی فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے بچوں کے مسائل کی واضح شناخت اور فوری و مؤثر ردِعمل کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے زور دیا کہ ایس اے ایم آر ایس پہلے ہی 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں فعال ہو چکا ہے جبکہ یونیسیف کی معاونت سے شروع کردہ ایک منصوبے کے تحت مزید چار اضلاع میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام صرف غیر حاضری کی نگرانی کے لیے نہیں بلکہ طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے خطرات کی پیش گوئی، ضروری اقدامات کی تجویز اور مجموعی اسکول نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس اے ایم آر ایس ایک ایسا ماڈل ہے جسے پورا پاکستان اپنا سکتا ہے۔ ہم اسے ایک نئی پالیسی کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دے رہے ہیں تاکہ اس کی پائیداری، ملکیت اور سندھ کے تعلیمی نظمِ حکمرانی کے فریم ورک میں اس کے انضمام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس اے ایم ا ر ایس نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔