پاکستان میں گوگل کروم بُک کی پہلی اسمبلی لائن کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستان میں پہلی بار گوگل کروم بُک کی اسمبلی لائن کا افتتاح ڈیجیٹل پاکستان کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت یہ منصوبہ ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا جس سے عام شہریوں خصوصاً طلبہ کو جدید لیپ ٹاپ کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔
ہری پور میں قائم فیکٹری میں روزانہ 50 ہزار کروم بُک تیار ہوں گی جبکہ سالانہ ہدف 5 لاکھ رکھا گیا ہے، جو آئندہ 10 لاکھ تک پہنچے گا۔ اس منصوبہ سے ہزاروں نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی صنعت مضبوط ہوگی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات کا راستہ کھلے گا۔
یہ منصوبہ گوگل کے ان پروگرامز کا تسلسل ہے جن کے تحت 10 لاکھ سے زائد پاکستانیوں بشمول اساتذہ، طلبہ، ڈیولپرز اور تخلیق کاروں کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھائی جا چکی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک پاکستان کی برآمدات میں 6.
گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان نئے معاہدے کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔ گیمنگ اور اسٹارٹ اپ صنعت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے اور ایک لاکھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس دیے جائیں گے تاکہ نوجوان عالمی معیار کی نوکریوں کے اہل بن سکیں۔
گوگل اپنا AI لیڈرز فیلوشپ پروگرام بھی شروع کرے گا، جس سے 100 پاکستانی ادارے مصنوعی ذہانت اپنا کر مقابلے میں آگے بڑھ سکیں گے۔ وزارت آئی ٹی اور گوگل مل کر پاکستان میں ایمرجنسی لوکیشن سروسز نافذ کریں گے تاکہ عوام کو بہتر سہولتیں میسر آسکیں۔
یہ منصوبہ نہ صرف ایک فیکٹری تک محدود ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں بین الاقوامی کمپنیوں کے پاکستان آنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔