“ہر آغاز کا ایک انجام ہوتا ہے” رونالڈو نے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مانچسٹر:۔ دنیا کے معروف فٹبالر اور النصر کلب کے اسٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد فٹبال سے ریٹائر ہونے والے ہیں، تاہم وہ اپنے شاندار کیریئر کے اختتام کے لیے ذہنی طور پر طویل عرصے سے تیار ہیں۔
40 سالہ پرتگالی اسٹار، جو اَب تک کلب اور ملک کے لیے مجموعی طور پر 952 گول اسکور کر چکے ہیں، نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ایک ہزار گول کا ہدف حاصل کرنے کے بعد کھیل کو خیرباد کہیں گے۔
برطانوی میزبان پیئرس مورگن کو دیے گئے انٹرویو میں پانچ بار کے بیلن ڈی اور ایوارڈ یافتہ رونالڈو نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ میں تیار ہوں، لیکن یہ بہت مشکل ہوگا۔ میں نے اپنی ریٹائرمنٹ کی تیاری 25 یا 26 سال کی عمر سے ہی شروع کر دی تھی۔ یقین ہے کہ میں اس دباو ¿ کو برداشت کر سکوں گا، البتہ کسی گول کے بعد ملنے والا ایڈرینالین کا احساس کبھی نہیں بھول سکتا۔
رونالڈو نے کہا کہ اب وہ اپنے لیے، اپنے خاندان اور بچوں کی پرورش کے لیے زیادہ وقت نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ “ہر چیز کا ایک آغاز اور ایک انجام ہوتا ہے”۔
مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق فارورڈ نے اپنی سابقہ ٹیم کے بارے میں بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اداس ہوں کیونکہ یونائیٹڈ دنیا کے اہم ترین کلبوں میں سے ایک ہے اور آج بھی میرے دل کے قریب ہے، لیکن کلب کے اندر کوئی مضبوط ساخت نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ صورتحال مستقبل میں بدلے گی، کیونکہ کلب کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔
رونالڈو کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ اس وقت غلط سمت میں جا رہا ہے اور مسئلہ صرف کوچ یا کھلاڑیوں کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔ انہوں نے موجودہ منیجر روبن اموریم کے بارے میں کہا کہ “وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن فٹبال میں معجزے ممکن نہیں ہوتے”۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رونالڈو نے نے کہا
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔