خطے میں قیام امن کے لئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
خطے میں قیام امن کے لئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں: خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خطے میں قیام امن کے لئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں۔وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ ہاس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا وفد آج مذاکرات کے لئے جا چکا ہے ، کل افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہو۔
انہوں نے27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ ابھی تک بات نہیں کر سکتے کہ کیا بحث ہو رہی ہے،اعتراضات کئے ہیں، کمنٹ کرنا میرا بنتا نہیں،اگلے ہفتے آئینی ترمیم کی کوئی شکل نکل آئے گی، بلاول بھٹو کا حق ہے وہ اظہار رائے کرسکتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد جو شکل نکلے گی وہ سامنے لے آئیں گے،پاک افغان مذاکرات میں پیش رفت کی امید ہوتی ہے تو تبھی بات کی جاتی ہے،اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔وزیر دفاع سے دوران گفتگو اِس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں قیام امن کیلئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے: وزیر اعلی پختونخوا آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے: وزیر اعلی پختونخوا جولائی تا ستمبر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ گیا اسرائیلی وزیر نے نیویارک کے نومنتخب مسلم میئر کو حماس کا حامی قرار دیدیا ڈھائی لاکھ افراد جعلی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، زیادہ تر افغان شہری نکلے ایف بی آر کا مینول ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کیلئے خصوصی سہولیات کا اعلان مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلیے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں خطے میں قیام امن خواجہ آصف کے لئے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں