افغانستان: مزارِ شریف کے قریب زلزلہ، 7 افراد جاں بحق، 150 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
افغانستان کے شمالی شہر مزارِ شریف کے قریب پیر کی صبح آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہو گئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ 28 کلومیٹر کی گہرائی میں ضلع خُلم کے قریب آیا، جو مزارِ شریف کے نواح میں واقع ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل تک محسوس کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:
مقامی حکام نے ہنگامی فون نمبرز جاری کیے، تاہم ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، زلزلے کے دوران لوگ رات گئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، خوف تھا کہ عمارتیں گر سکتی ہیں۔
طالبان حکومت کو 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید پڑھیں:
2023 میں مغربی صوبہ ہرات میں آنے والے زلزلے میں 1,500 سے زائد افراد ہلاک اور 63,000 سے زیادہ مکانات تباہ ہو گئے تھے۔
اس سال 31 اگست کو مشرقی افغانستان میں 6.
افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے کے قریب، جہاں یوریشیائی اور بھارتی ارضیاتی پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
مزید پڑھیں:
دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان اس وقت غربت، خشک سالی اور پاکستان و ایران سے واپس آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کے بحران سے نبردآزما ہے۔
زیادہ تر افغان گھروں کی تعمیر کمزور معیار کی ہے، اور ملک میں بنیادی ڈھانچے کی کمی قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔
برطانوی جیولوجیکل سروے کے ماہرین ارضیات کے مطابق، 1900 سے اب تک شمال مشرقی افغانستان 7 یا اس سے زائد شدت کے 12 زلزلوں سے متاثر ہو چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان مہاجرین افغانستان امریکی جیولوجیکل سروے جھٹکے دارالحکومت زلزلہ شمال مشرقی قدرتی آفات کابل مزار شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین افغانستان جھٹکے دارالحکومت زلزلہ شمال مشرقی قدرتی ا فات کابل مزار شریف کے مطابق کے قریب
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز