قدرت سے ربط رکھنے والے سرفہرست ممالک کون کون سے ہیں؟ فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
لندن:
سماجی، ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی عوامل کے تحت قدرت سے قریبی ربط رکھنے والے دنیا کے سرفہرست ممالک کے نام جاری کردیے گئے ہیں، جس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے تحقیقی جریدے ایمبیو میں شائع رپورٹ کے حوالے سے ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے، جن کو قدرت سے جڑے ہوئے ممالک قرار دیا گیا ہے، اور 61 ممالک میں نیپال کو دنیا کا سب سے زیادہ قدرت سے جڑا ہوا ملک قرار دیا گیا ہے۔
برطانیہ اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی سربراہی میں تحقیقی ٹیم نے یہ فہرست ترتیب دی، تحقیق کرنے والی ٹیم میں یونیورسٹی آف ڈربی کے پروفیسر مائلز رچرڈسن بھی شامل تھے جو ’’قدرت سے وابستگی‘‘ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق میں 61 ممالک کے57 ہزار افراد سے سروے کیا گیا اور تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ سماجی، ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی عوامل کا فطرت سے جذباتی و ذہنی تعلق پر کیا اثر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منفرد تحقیق میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ روحانیت اور مذہبی عقیدہ قدرت سے مضبوط تعلق رکھنے کے سب سے بڑے عوامل ہیں۔
سروے میں نیپال کے بعد دوسرے نمبر پر ایران، تیسرے نمبر پر جنوبی افریقہ، بنگلادیش اور نائیجیریا بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں، چلی چھٹے نمبر پر موجود ہے، سرفہرست 10 ممالک میں یورپ کے صرف دو ممالک کروشیا ساتویں اور بلغاریہ نویں نمبر شامل ہیں، گھانا کا نمبر 8 اور تیونس 10 ویں نمبر پر ہے، یورپ سے سرفہرست ممالک میں فرانس 19ویں نمبر پر ہے۔
برطانیہ بھی آخری ممالک میں شامل ہے اور 61 ممالک میں سے 55ویں نمبر پر ہے، نیدرلینڈز، کینیڈا، جرمنی، اسرائیل اور جاپان بھی فہرست کے نچلے حصے میں آئے۔
اس فہرست میں اسپین آخری نمبر پر رہا، نیدرلینڈز، کینیڈا، جرمنی، اسرائیل اور جاپان کے اسکور بھی برطانیہ سے کم تھے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کاروبار میں آسانی یعنی ملک میں کاروبار کرنے کی سہولت جتنی زیادہ ہو، قدرت سے وابستگی کا احساس اتنا ہی کم ہو جاتا ہے یعنی وہ ممالک جہاں مارکیٹ اور کاروباری ماحول زیادہ مضبوط ہے، وہاں لوگ فطرت سے نسبتاً کم جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ممالک میں
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ