کراچی (نوائے وقت رپورٹ) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے 9 ٹاؤنز چیئرمینوں کی کارکردگی قابض میئر کی کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے، ہم تو چاہتے ہیں کہ تعلیم،صحت، عوامی خدمت اور تعمیر وترقی میں مقابلہ ہو لیکن پیپلزپارٹی کا ان کاموں سے کوئی تعلق نہیں، اختیارات و وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے تمام ٹاؤنز میں تعمیر وترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت کا عمل جاری رکھیں گے۔ پیپلزپارٹی رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے ٹاؤن، یوسیز کو فنڈز دے۔ فارم 47 والی حکومت اور قبضہ میئر شپ کو تسلیم نہیں کرتے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے تو شروع ہو جاتے ہیں لیکن مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے، کراچی کو لوٹنے و تباہ و برباد کرنے والا وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ اب مزید نہیں چلے گا۔ سسٹم کو اب خیرباد کہنے کا وقت آگیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت پارک بارہ دری بلاک Aمیں نارتھ ناظم آباد کے عوام کے لیے تکمیل شدہ اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب و پریس بریفنگ اور ٹی ایم سی نیو کراچی کے تحت پاور ہاؤس چورنگی سے نیو کراچی نمبر 3 تک نئی تعمیر شدہ سڑک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے تختی کی نقاب کشائی بھی کی اور نیو کراچی میں معروف نعت گو شاعر اعجاز رحمانی کے نام سے منسوب سڑکوں کا افتتاح کیا۔    

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع