آزادی صحافت کا تحفظ اور صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت صحافیوں کے خلاف جرائم کے معاملات میں مؤثر تفتیش، انصاف اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔ جب کہ ہم آزادیِ صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے پْرعزم ہیں۔ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ آزاد، باخبر اور ذمہ دار صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ میں اس موقع پر اْن تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے حق و سچ کی خاطر مشکلات برداشت کیں، اور اْن اہلِ قلم و میڈیا ورکرز کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں کو فرضِ منصبی کے دوران کھو دیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیپینڈنٹ گروپ اور اس کے سربراہ احسن بھون کو اسلام آباد بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے انتخابات میں واضح برتری پر مبارک باد دیتے ہوئے جیتنے والے تمام وکلاء کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وکلاء کا جمہوریت کی مضبوطی میں اہم کردار ہے۔ یقین ہے کہ نو منتخب نمائندے دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور معاشرے کے لئے ذمہ داری کے گہرے احساس کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ مجھے امید ہے آپ عدلیہ اور قانون کی سر بلندی کے لیے بھی اپنا اہم کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیرِ قانون وکلاء کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کارکردگی پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ گرین شرٹس نے بہت عمدہ کھیل پیش کیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کامیابی پر پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کی بہترین کاوشوں کو بھی سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف کے خلاف
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔