وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کی جرمن سفیر اِنا لاپیل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
---فائل فوٹوز
وزیرِ مملکت خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی میں بدلنے پر کام کر رہے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے جرمنی کی سفیر اِنا لاپیل سے ملاقات کی، اس دوران ڈپٹی ہیڈ آف مشن آرنو کِرچَوف اور اکنامک کونسلر جینین روہور بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔
بلال کیانی اور جرمن سفیر کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے دوران جرمنی اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ مملکت اور جرمن سفیر نے ملاقات کے دوران پاکستان جرمنی تعلقات کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر بلال کیانی نے کہا کہ معاشی استحکام کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی میں بدلنے پر کام کر رہے ہیں، ایم ایل 1 اور ایم ایل 3 ریلوے ٹریک کے منصوبوں میں پیشرفت ہوئی ہے۔
اس موقع پر جرمن سفیر اِنا لاپیل نے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جرمن سفیر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔