سوڈان میں عسکریت پسندوں کا اقوام متحدہ کے اڈے پر حملہ، 6 بنگلہ دیشی فوجی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سوڈان اور جنوبی سوڈان کے متنازعہ علاقے ایبی میں اقوام متحدہ کے ایک اڈے پر مسلح عسکریت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 بنگلہ دیشی امن فوجی جاں بحق اور 8 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں ہولناک قتلِ عام، سینکڑوں مریض اور شہری ہلاک
بنگلہ دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ غیر شناخت شدہ مسلح گروہوں نے کیا، جنہیں دہشتگرد قرار دیا گیا ہے۔
یہ بنگلہ دیشی دستہ اقوام متحدہ کے عارضی امن فوجی مشن برائے ایبی (یو این آئی ایس ایف اے) کے تحت تعینات تھا، جس کا مقصد اس غیر مستحکم علاقے میں امن و استحکام قائم رکھنا ہے۔
حملے کے حالات اور اقوام متحدہ کے مرکز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان: غیر ملکیوں کا انخلا جاری، گھروں میں پھنسے شہری غذائی قلت کا شکار
زخمی امن فوجیوں کو طبی علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں اقوام متحدہ کے دیگر مراکز کی حفاظت سخت کردی گئی ہے علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔
بنگلہ دیش اقوام متحدہ کے امن فوجی مشنز میں سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، یہ واقعہ افریقہ کے متنازعہ علاقوں میں تعینات امن فوجیوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی ایس پی آر اقوام متحدہ بنگلہ دیش جھڑپیں حملہ سوڈان فوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر اقوام متحدہ بنگلہ دیش جھڑپیں حملہ سوڈان فوجی اقوام متحدہ کے بنگلہ دیشی امن فوجی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان