شام میں مسلح شخص کا گھات لگاکر امریکی فوجیوں پر حملہ؛ 3 ہلاکتیں اور 3 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
شام میں تعینات امریکی فوجیوں پر تن تنہا جنگجو نے حملہ کرکے تین کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ امریکی اور شامی مشترکہ فوجی گشت کے دوران کیا گیا۔
ترجمان پینٹاگون نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکی فوجی، شام کے ایک تاریخی وسطی علاقے میں کلیدی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔
اس ملاقات میں جاری داعش مخالف اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے انجام دہی کے لیے باہمی مشاوت جاری تھی۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہلاک ہونے والوں میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی سویلین مترجم شامل ہے جب کہ تینوں زخمی بھی امریکی فوجی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام اور یونٹ سے متعلق تفصیلات اہلِ خانہ کی رضامندی ملنے کے بعد دی جائیں گی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ شام میں داعش کے ایک تنہا مسلح فرد کی گھات لگا کر کی گئی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور کو فورسز نے جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا۔
تاحال کسی گروہ نے باضابطہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی حملہ آور کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی فوجی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔