بنگلہ دیش: جمہوریت دشمن کوششوں کیخلاف سیاسی جماعتوں کا اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جولائی کے عوامی بغاوت کو نقصان پہنچانے کی مبینہ سازشوں کے خلاف یکجہتی کا عزم کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جو ریاستی گیسٹ ہاؤس جمنا میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ میں انتخابی امیدوار فائرنگ سے شدید زخمی، تشدد میں اضافہ تشویشناک قرار
اجلاس میں بنگلہ دیش نیشنل ازم پارٹی (BNP)، بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور انقلابی منچ کے نمائندگان نے شرکت کی۔
The Awamijeet and their Handlers wanted to scare us, wanted to divide the nation by attacking Hadi bhai
But instead the whole nation united, we are all united in the fight against the enemy pic.
— Bangladeshi Knight ???????? (@ZLudolf) December 13, 2025
سینیئر رہنماؤں نے انقلابی منچ کے ترجمان اور ڈھاکہ-8 کے متوقع آزاد امیدوار شریف عثمان ہادی پر حملے کو ایک وسیع سازش کا حصہ قرار دیا۔
پروفیسر یونس نے کہا کہ یہ حملہ پہلے سے منصوبہ بندی شدہ اور انتخابی عمل کو خراب کرنے کی کوشش ہے، اور انتہا پسند گروہ اپنے نیٹ ورک کو پھیلانے اور تربیت یافتہ شوٹرز تعینات کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کا 18 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
پی این پی کے رہنما صلاح الدین احمد نے پارٹی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کسی بھی غیر مستحکم قوت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری غلام پرور نے سیاسی اختلافات کے باعث پیدا ہونے والی کمزوریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں اپنے اتحاد کے عزم کو تجدید کریں۔
این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام نے کہا کہ جولائی کی بغاوت کو بدنام کرنے کی کوششیں اس کی ابتدا سے جاری ہیں اور اندرونی تقسیم دشمنوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے میڈیا، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں پھیلائی جانے والی پروپیگنڈا سرگرمیوں کی نشاندہی کی۔
After the July Uprising, the cultural and political platform Inquilab Mancha emerged under his leadership
See more: https://t.co/i6gPThuwhH pic.twitter.com/mdOMXiqCqP
— bdnews24.com (@bdnews24com) December 12, 2025
اجلاس میں قانون کے مشیر آصف نذرل نے کہا کہ حکومت اور تمام سیاسی فریقین کو قومی مفاد کو فوقیت دینی ہوگی اور یکجہتی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ملک کی جمہوری راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔
اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ داخلی تقسیم کو ختم کرنا اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد اور اتحاد قائم رکھنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ جولائی کی عوامی بغاوت کے اصل جذبے کو محفوظ رکھا جا سکے اور ملک میں جمہوری استحکام قائم رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بی این اپی پروفیسر یونس جماعت اسلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این اپی پروفیسر یونس جماعت اسلامی بنگلہ دیش کہا کہ
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔