پیپلز پارٹی جمہوریت کی علمبردار، تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہے ‘ سردار سلیم حیدر
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
چنیوٹ (نمائندہ نوائے وقت) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے رجوعہ سادات کا دورہ اور سابق صوبائی وزیر سید حسن مرتضیٰ سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی۔ گورنر نے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔ فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی علمبردار ہے اور تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے ،جمہوریت کا راستہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ سڑکوں پر آکر لاٹھیاں ماری جائیں، سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنی کارکردگی سے عوام میں جگہ بناتے ہیں، گورنر راج آئین کا حصہ ضرور ہے مگر ابھی لگا نہیں۔ گورنر نے کہا کہ وہ سید حسن مرتضیٰ کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اس غم میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنی کارکردگی سے عوام میں جگہ بناتے ہیں۔ جب بھی ملک میں آمریت آئی، آمروں نے اپنی جماعتیں بنائیں مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا اور ڈکٹیٹروں کی وردیاں اتروائیں۔ انہوں نے دوٹوک موقف اپنایا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی حمایت کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔