انسانی حقوق کے عالمی دن پر پیغام میں کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ کمزور طبقات کی آواز بننا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انسانیت، باہمی احترام اور رواداری ہمارے اجتماعی قومی پیغام کا بنیادی حصہ ہیں، انسانی حقوق کے فروغ اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کا مکمل تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو مساوی مواقع، آزادی اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ معاشرتی انصاف کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، بلکہ ایک مضبوط، منصفانہ اور متوازن معاشرے کی تشکیل کا انحصار انسانی وقار اور حقوق کے عملی تحفظ پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس کے گیٹ پر "امید کی گھنٹی" اسی مقصد کے تحت نصب کی گئی ہے تاکہ وہ لوگ جو طویل عرصے سے نظر انداز رہے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کے مسائل کا فوری حل ممکن بنایا جائے۔

اپنے پیغام میں گورنر سندھ نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن عدم برداشت، ناانصافی اور ہر قسم کے امتیازی رویوں کے خاتمے کے عزم کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی وقار کے تحفظ کے لیے تمام اداروں کو اپنا مؤثر اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کو حقیقی معنوں میں انصاف مل سکے۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے زور دیا کہ کمزور طبقات کی آواز بننا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انسانیت، باہمی احترام اور رواداری ہمارے اجتماعی قومی پیغام کا بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کے فروغ اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انسانی حقوق کے گورنر سندھ نے کہا کہ انہوں نے اور ان

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن