پنجاب کی سالٹ رینج میں پہلی بارتیتر کے شکارکے لئے پرمٹس کی نیلامی مکمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں پہلی بار سالٹ رینج میں تیتر کے شکار کے لیے پرمٹ نیلام کیے گئے جس سے مجموعی طور پر 57 لاکھ 62 ہزار روپے سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔
چکوال، جہلم اور خوشاب کے علاقوں میں قائم 239 زونز کے لیے یہ نیلامی تین روز میں مکمل ہوئی۔ سب سے مہنگا پرمٹ 3 لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔ دوسری طرف بعض مقامی آبادیوں نے بلااجازت ان کی ذاتی اراضی پرشکار کی اجازت دیئے جانے پر خدشات کا اظہارکیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کسی کوشکار کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق کمیونٹی بیسڈ کنزروینسز (سی بی سی) پر مشتمل 36 زونز کی نیلامی سے 13 لاکھ 90 ہزار 200 روپے جبکہ دیگر 203 زونز سے 43 لاکھ 72 ہزار روپے حاصل ہوئے۔ سی بی سی زونز میں ایک یونٹ کی اوسط قیمت 12 ہزار 872 روپے رہی جبکہ دیگر زونز میں اوسط قیمت 7 ہزار 180 روپے فی یونٹ رہی۔
ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر سالٹ رینج زاہد علی کے مطابق ایک پرمٹ پر تین رائفلوں کے استعمال کی اجازت ہوگی اور ایک رائفل زیادہ سے زیادہ چھ تیتر شکار کرسکے گی۔ شکار صرف اتوار کے روز اور صرف اسی زون میں کیا جاسکے گا جس کے لیے پرمٹ جاری ہوا ہے۔ پنجاب کے دیگرعلاقوں میں تیترکے شکارکا پرمٹ آن لائن حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی فیس ایک ہزار روپے ہے۔
ادھر کلر کہار، چکوال، جہلم اور خوشاب کی کئی مقامی آبادیوں نے اپنی ملکیتی زمینوں پر شکار کے لیے پرمٹ جاری کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ وادی سون، تحصیل نوشہرہ (خوشاب) کے رہائشیوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ جن زونز میں شکار کی اجازت دی گئی ہے، وہ گیم سینکچری کی حدود میں آتے ہیں، جہاں قانون کے مطابق شکار ممنوع ہے۔
اسی طرح کلر کہار کے کچھ مقامی افراد، جن میں نمبردار بھی شامل ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اپنی زمینوں پر شکار کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ اس سے فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور بعض اوقات شکاریوں کی جانب سے مقامی افراد سے بدتمیزی کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، جس سے تنازع کا خدشہ ہے۔
زاہد علی نے مزید بتایا کہ مقامی کمیونٹیز کے تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور اس مقصد کے لیے کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز کو دیا جائے گا تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور بقا کے لیے ان علاقوں میں کام کیا جاسکے۔ محکمہ کی جانب سے مقامی لوگوں کو سبسڈی پر جنگلی پرندے بھی فراہم کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔