200 روپے کے ٹکٹ پر ڈیڑھ کروڑ کا انعام جیتنے کے باوجود مزدور پریشان، مگر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بھارتی پنجاب کے ضلع فریدکوٹ میں ایک دیہاڑی دار مزدور کے خاندان کے لیے خوشی اور خوف اب ایک ساتھ چل رہے ہیں، کیونکہ حال ہی میں انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاٹری جیت لی ہے۔
نصیب کور اور ان کے شوہر رام سنگھ، دونوں سائیڈکے گاؤں کے رہائشی اور کھیتوں میں دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور ہیں۔
انہوں نے 200 روپے کا ایک لاٹری ٹکٹ خریدا تھا جس نے پنجاب اسٹیٹ لاٹری میں پہلا انعام جیت لیا۔
تاہم اس غیر متوقع جیت کی خوشی بہت جلد خوف اور اضطراب میں بدل گئی۔
جیسے ہی اس جیت کی خبر آس پاس کے علاقوں میں پھیلی، وہ پریشان ہوگئے کہ کہیں جرائم پیشہ عناصر انہیں تاوان یا ڈکیتی کا نشانہ نہ بنا لیں۔
اپنی حفاظت کے پیشِ نظر، خاندان نے گھر کو تالے لگا دیے، موبائل فون بند کر دیے اور ایک خفیہ مقام پر منتقل ہو گیا۔
فریدکوٹ پولیس کو منگل کے روز اس صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر خاندان سے رابطہ کیا اور انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی ایس پی ترلچن سنگھ نے بتایا کہ آج ہمیں پتا چلا کہ نصیب کور نے 15 سے 20 روز قبل 200 روپے کا ایک لاٹری ٹکٹ خریدا تھا، جس میں انہیں ڈیڑھ کروڑ روپے کا انعام ملا ہے۔
’خاندان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اچانک دولت ملنے کی وجہ سے کوئی انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے یا تاوان کا مطالبہ کر سکتا ہے۔‘
ڈی ایس پی ترلچن سنگھ کے مطابق پولیس نے انہیں یقین دلایا ہے کہ پولیس عوام کی حفاظت کے لیے ہر وقت موجود ہے اور ان کے خاندان کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔