راولپنڈی میں الیکڑک بسوں کےعملے کی جانب سے مبینہ کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
راولپنڈی میں عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کی گی الیکڑک بسوں کے عملے کی جانب سے مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی لیے راولپنڈی میں بھی ماحول دوست الیکڑک گرین بسوں کا آغاز کیا گیا اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے گزشتہ ماہ افتتاح کیے جانے کے بعد چار مصروف ترین روٹس پر گرین بسیں مکمل لوڈ کے ساتھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کررہی ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان بسوں میں خواتین،بزرگ مسافروں اور چھوٹے بچوں سمیت اسٹوڈنٹس کے لیے سفر فری رکھا گیا ہے۔
اسی طرح میڑو بس کی طرح بسوں کو چلانے کے لیے سروسز آؤٹ سورس کی گی ہیں، اس دوران سفر ایک مسافر نے بس میں مسافروں سے کرائے کہ مد میں رقم لیکر انھیں ٹکٹ یا رسید نہ دیے جانے کی وڈیو بناکر وائرل کی تو پنجاب کی سطح سے اس کا سخت نوٹس لیا گیا۔
معاملے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے لیاقت باغ مری روڈ پر آپریشنل بس کو روک کر مسافروں سے کرایہ ادا کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کرایہ ادا کرنے کہ تصدیق کی لیکن جب ان سے ٹکٹ دیکھانے کے لیے کہا گیا تو مسافروں نے چیکنگ کرنے والی ٹیم کو بتایا کہ بس کے عملے نے انھیں ٹکٹ نہیں دیا۔
اس پر چیکنگ ٹیم کے سربراہ اظہر نواب نے تھانہ سٹی کو مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایاکہ ٹیم کے ساتھ لیاقت باغ روڈ پر الیکڑک بس ای وی 24 کو روک کر مسافروں کے ٹکٹ چیک کیے تو انکشاف ہوا کہ بس کنڈیکٹر مسافروں سے کرایہ تو وصول کررھا تھا لیکن انھیں کسی قسم کا ٹکٹ یا رسید نہیں دے رھا تھا۔
کنڈیکٹر نے کرایہ وصول کرکے ٹکٹ یا رسید جاری نہ کرکے اور کھاتے میں ظاہر نہ کرکے امانت میں خیانت کا مرتکب ہوا ہے، لہذا اس کے خلاف مزکورہ دفعات سمیت موٹر وہیکل آرڈیننس کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
تھانہ سٹی پولیس نے کنڈیکٹر حیدر علی کے خلاف دفعہ 409 اور موٹر وہیکل آرڈیننس کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب سے کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔