بنگال میں ہندوتوا کی ٹھیکیداری قبول نہیں،وزیراعلیٰ ممتابنرجی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگال:مغربی بنگال کی سیاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کا معاملہ زور پکڑتا جارہا ہے۔
مالدہ کے گاجول میں ایک بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کو ووٹرز کی دبائو میں لانے کی سازش قرار دیا اور مرکز پر سخت حملے کیے۔انہوں نے کہا کہ بنگال میں ہندوتوا کی ٹھیکیداری قبول نہیں۔
ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ عوام میں پھیلی ہوئی گھبراہٹ دور کرنے کےلیے ریاست بھر میں “May I Help You” (کیا میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں) ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کو وزیر داخلہ امیت شاہ کی منصوبہ بندی کے تحت اچانک شروع کیا گیا تاکہ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ اب تک 39 شہری ایس آئی آر کے خوف سے مر چکے ہیں۔ یہ ظلم بند ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئی شہری بنگال نہیں چھوڑے گا، نہ کوئی ڈٹینشن کیمپ جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹ، فرضی ویڈیوز اور اے آئی سے بنائی گئی تصاویر کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔
ممتا بنرجی نے مرکز پر فنڈ روکنے کا بھی الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ بنگال کے 1.
87 لاکھ کروڑ روپے روکے گئے ہیں اور پھر یہاں کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بنگال میں “ہندوتوا کی ٹھیکیداری” قبول نہیں کی جائے گی اور ریاست کے سیکولر تشخص کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس آئی آر انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔