چاہے فوج کا استعمال کرنا پڑے یوکرینی علاقوں کو روس میں شامل کریں گے؛ پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کی تجویز پر جاری مذاکرات کے باوجود صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک بار پھر یوکرینی علاقوں کے روس میں انضمام پر زور دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ امریکا میں جاری مذاکرات میں ڈونباس کو روس میں ضم کرنے کے مطالبے پر غور کیا جائے گا۔
روسی صدر کے بقول ہم نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ کسی بھی طرح ڈونباس اور نووروسیا کو یوکرین کے تسلط سے آزاد کرائیں گے۔ چاہے اس کے لیے جنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں کو یا تو یوکرینی فورسز خود ہی خالی کردیں گی اور واپس لوٹ جائیں گی یا پھر روسی فوج انھیں ایسا کرنے پر مجبور کردیں گی اور اس علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیں گی۔
ان خیالات کا اظہار روسی صدر نے ماسکو میں بھارت روانگی سے قبل دیا جہاں ان کا استقبال وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔
یاد رہے کہ روس میں امریکی وفد نے دو روز قبل پیوٹن حکومت کے اہم عہدیداروں کے ساتھ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے دی گئیں امریکی صدر کی تجاویز پر مذاکرات کیے۔
دسری جانب آج یوکرینی وفد بھی ٹرمپ تجاویز پر مذاکرات کے لیے امریکا پہنچ رہا ہے جس کے لیے امریکی صدر کافی پُرامید ہیں۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر نے 28 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے جس پر پہلے تو فریقین نے انکار کیا تھا تاہم اب کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے امریکا سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر کے لیے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔