پولیس وردی میں ٹک ٹاک بنانے پر تین اہلکار نوکری سے برخاست
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے تین پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پیش آیا جہاں کانسٹیبل شاہد، بلال اور عثمان نے وردی میں ویڈیو بنائی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد ایس پی شہربانو نقوی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں اہلکاروں کو ملازمت سے نکال دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پولیس ملازمین کو سوشل میڈیا کے باعث کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پولیس نے اپنے افسران اور اہلکاروں کے لیے ٹک ٹاک سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ کوئی بھی اہلکار یونیفارم میں ویڈیو نہیں بنائے گا، ورنہ سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔
اسی پالیسی کی خلاف ورزی پر اسلام آباد پولیس نے دو اہلکاروں، آفتاب احمد اور احتشام اسلم کو بھی معطل کیا تھا۔ ان پر ’’بدتمیزی‘‘ اور سوشل میڈیا قواعد توڑنے کے الزامات عائد کیے گئے اور انہیں ریسکیو 15 میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یونیفارم میں ویڈیو بنانا نہ صرف سروس ڈسپلن کے خلاف ہے بلکہ ادارے کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اسی لیے مستقبل میں بھی اس معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ