رونالڈو کی دل چھولینے والی شفقت بھری ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پرتگالی سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نہ صرف اپنے کھیل بلکہ جذبہ انسانیت اور شفقت بھرے انداز کے لیے بھی مشہور ہیں۔
حال ہی میں سعودی کلب النصر کی نمائندگی کرنے والے رونالڈو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جسے خود النصر کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ نے بھی ری پوسٹ کیا ہے۔
ویڈیو النصر کے کسی میچ سے قبل کی ہے جس میں رونالڈو ٹیم لائن اپ کے دوران اپنے آگے کھڑی بچی گلے میں بہت ہی پیار اسے اپنا مفلر ڈالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
رونالڈو کے اس اقدام پر بچی کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔
A small gesture… a lifetime memory.
ان کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی خوب سراہا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔