کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی کو تمام شاہی اعزازات سے محروم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
برطانوی شاہی خاندان میں ایک اور ڈرامائی موڑ آگیا ہے۔ کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے آخری شاہی اعزازات بھی باضابطہ طور پر واپس لے لیے جس کے بعد وہ کسی بھی شاہی خطاب یا اعزاز کے حامل نہیں رہے۔
رپورٹ کے مطابق اینڈریو اب نہ آرڈر آف دی گارٹر کے رکن رہے اور نہ ہی نائٹ آف دی گرانڈ کراس آف دی رائل وکٹوریہ آرڈر کے حامل۔ آرڈر آف دی گارٹر برطانیہ کا سب سے قدیم اور معتبر ترین اعزاز ہے جو قومی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے جبکہ نائٹ آف دی گرانڈ کراس وہ اعزاز ہے جو بادشاہ کے لیے ذاتی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ملتا ہے۔
یہ دونوں اعزازات ان کے سرکاری ریکارڈ سے بھی حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل ہی ان سے “پرنس” کا خطاب بھی واپس لے لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کی مشاورت سے کیا گیا جبکہ اینڈریو نے بھی اس اقدام سے اتفاق کیا۔ شاہی مؤقف کے مطابق بادشاہ اس نتیجے پر خوش ہیں۔ ایسا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رائل نیوی جلد ہی انہیں وائس ایڈمرل کے عہدے سے بھی سبکدوش کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل کنگ چارلس نے اینڈریو کو اس گھر سے بھی نکال دیا تھا جہاں وہ 20 سال سے زیادہ عرصہ گزار چکے تھے۔
اینڈریو اب نہ ڈیوک آف یارک کہلائیں گے، نہ پرنس، اور نہ ہی شاہی اشرافیہ کی فہرست میں شامل ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب انہیں مستقبل میں کبھی بھی بادشاہ یا سینئر شاہی افراد کے ساتھ عوامی تقریبات میں نہیں دیکھا جائے گا، تاہم شاہی روایات کے مطابق وہ اب بھی تختِ برطانیہ کی وراثتی لائن میں آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔