دنیا بھر میں ذیابیطس کی بلند ترین شرح، پاکستان پہلے نمبر پر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن (IDF) کی 2025 کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کی بلند ترین شرح رکھنے والے ممالک میں پاکستان پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی بالغ آبادی میں ذیابیطس کا پھیلاؤ 30.
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے، جو پاکستان میں ایک بڑے صحت عامہ کے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
گلف نیوز میں شائع ہونے والی آئی ڈی ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ذیابیطس کے علاج پر خرچ ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں کئی ممالک کے لیے ایک بڑے اور پیچیدہ چیلنج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اگست 2025 میں جاری ہونے والی ڈائبیٹیز اٹلس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20 سے 79 سال کی عمر کے 589 ملین افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ہر نو میں سے ایک شخص اس بیماری کا شکار ہے۔ ان میں سے 252 ملین افراد ابھی تک تشخیص کے بغیر ہیں اور علاج نہ ہونے کے باعث سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔