رومانٹک فلم ’نیلو فر‘ میں ماہرہ خان کے رونے کا سین وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) مقبول اداکارہ ماہرہ خان اور فواد خان کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی رومانٹک فلم ’نیلو فر‘ کے ایک مختصر سین کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختصر کلپ فلم میں اداکارہ ماہرہ خان کے کردار کے رونے کا کلپ ہے۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں ماہرہ خان کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔
فلم میں ماہرہ خان نے نابینہ خاتون کا کردار ادا کیا ہے اور ان کے وائرل ہونے والے رونے کے سین سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک نابینہ خاتون ہی رو رہی ہیں لیکن شائقین کو ان کی اداکاری پسند نہ آئی۔
ماہرہ خان کے وائرل ہونے والے سین پر زیادہ تر صارفین نے مزاحیہ تبصرے کیے اور لکھا کہ یہ وہ خود ہیں، کیوں کہ انہوں نے ’نیلو فر‘ کا ٹکٹ خرید کر پیسے ضائع کیے۔
کچھ شائقین نے اداکارہ کی اداکاری پر بھی سوالات اٹھائے اور ان کی اداکاری کو بیکار قرار دیا اور لکھا کہ انہیں اداکاری آتی ہی نہیں، لوگوں نے خوامخواہ انہیں اداکار بنا رکھا ہے۔
بعض افراد نے ماہرہ خان کا موازنہ صبا قمر، صنم بلوچ، مومنہ اقبال اور سجل علی سے بھی کیا اور ان کے مقابلے باقی تمام اداکاراؤں کو بہترین قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے مقابلے وہ سب اچھی طرح رو لیتی ہیں۔
اسی طرح کچھ شائقین نے ماہرہ خان کا موازنہ حرا مانی سے بھی کیا اور لکھا کہ وہ ان کی طرح ہی رو رہی ہیں جو ہر روز سوشل میڈیا پر ڈرامے کرتی ہیں۔
نیلو فر کو پچھے ہفتے ریلیز کیا گیا تھا اور فلم شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔
فلم کو تقریبا پانچ سال کی تاخیر سے ریلیز کیا گیا ہے، ابتدائی طور پر اسے 2020 میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن کورونا کی وبا کی وجہ سے اس کی نمائش تاخیر کا شکار ہوتی رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وائرل ہونے ماہرہ خان نیلو فر لکھا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔