مسلمانوں میں علمی جستجو، ماضی اور حال کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تْو نے
وہ کیا گردوں تھا تْو جس کا ہے اک ٹْوٹا ہوا تارا
قرون وسطیٰ (Ages Middle) میں، جسے اکثر مسلم تہذیب کا سنہری دور (600–1700 عیسوی) کہا جاتا ہے، مسلم محققوں نے تحقیق اور مطالعے کی مضبوط ثقافت قائم کی، جس نے اپنے علمی اور سائنسی کارناموں سے اسلامی سلطنت کی عظمت میں اضافہ کیا۔ بغداد کے ’’بیت الحکمت‘‘، قرطبہ کے کتب خانہ جات، اور متعدد اسکولز نے یونانی، فارسی، ہندی اور دیگر قدیم علوم کے مطالعے اور ترجمے کو فروغ دیا۔
اس تعلیمی ماحول نے تنقیدی سوچ، محتاط دستاویزی کام اور جدت کو بڑھاوا دیا، جس کے نتیجے میں طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفے میں ترقی ہوئی۔ کلاسیکی متون کا عربی میں ترجمہ کر کے مسلم محققوں نے علم کو محفوظ اور منتقل کیا، جس سے قدیم تہذیبوں، اسلامی علم و دانش، اور بعد میں یورپی فکر کے درمیان ایک اہم پل قائم ہوا۔
قرون وسطیٰ میں مسلم محققین جیسے الخوارزمی، ابن سینا، الرازی، الفارابی، اور ابن الہیثم نے ریاضی، طب، بصریات اور کیمیا میں علم کو فروغ دیا اور یونانی، فارسی اور ہندی روایات کی بنیاد پر نئے تصورات متعارف کرائے، جو بعد میں لاطینی میں ترجمہ ہو کر یورپی نشاۃ ثانیہ پر اثرانداز ہوئے۔
مسلم حکمرانی، جیسے اموی، عباسی، فاطمی اور عثمانی سلطنتیں، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، اسپین، وسطی اور جنوبی ایشیا، اور جنوب مشرقی یورپ کے حصوں تک پھیلی ہوئی تھی، جس کی بنیاد اسلام کے متحد کرنے والے اثر، مضبوط قیادت، مؤثر انتظامیہ، فعال تجارت، اور اسلامی ثقافت و قوانین کی مقبولیت پر تھی۔ معیشت تجارتی رابطوں، جدید زراعت، ہنرمند کاریگری، شہری بازاروں، ٹیکس کے نظام، بینکاری اور تکنیکی اختراعات کے ذریعے مستحکم تھی، جس نے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی کامیابیوں کو فروغ دیا۔
اسی دوران مسلم دنیا کی یونیورسٹیاں اور علمی ادارے علم و تحقیق کے اہم مراکز بنے، جن میں بغداد کا بیت الحکمت ترجمے اور تحقیق کا مرکز تھا۔ مراکش کی جامعہ القیروان میں دینی تعلیم کے ساتھ ریاضی، فلکیات، قانون اور ادب کی تعلیم دی جاتی، مصر کی جامعہ الازہر دینی علوم کے ساتھ طب، منطق اور فلسفہ میں بھی تعلیم فراہم کرتی، اور قرطبہ کے مشہور کتب خانے لاکھوں کتابوں کے مجموعے کے ساتھ طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ پر کام کا مرکز تھے۔
علاوہ ازیں مختلف مدارس مقامی تعلیمی اداروں کے طور پر دینی تعلیم کے ساتھ ریاضی، فلکیات، طب اور فلسفہ کی تربیت فراہم کرتے تھے، اور یہ سب ادارے علم کو محفوظ کرنے، نئے نظریات پیدا کرنے اور بعد میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے علم منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔
عباسی خلافت نے اپنے عروج کے دوران ایک وسیع اور متنوع علاقے پر حکومت کی جس میں آج کے عراق، سعودی عرب، شام، اردن، لبنان، فلسطین، مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر کے کچھ حصے، ایران، افغانستان، پاکستان، اور وسطی ایشیا کے ممالک جیسے ترکمانستان، ازبکستان، اور تاجکستان شامل تھے، نیز کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور یمن کے حصے، اور ترکی، آرمینیا اور جارجیا کے مشرقی اور جنوبی علاقے بھی شامل تھے۔ یہ وسیع سلطنت ایک ثقافتی اور علمی مرکز تھی، جو قرون وسطیٰ کے دوران ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں میں مختلف لوگوں کو جوڑتی تھی۔
عثمانی سلطنت نے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقے پر حکومت کی، جو تقریباً 25 سے 30 موجودہ ممالک پر محیط تھی۔ اس میں موجودہ ترکی، بالکان کے بڑے حصے (جیسے یونان، بلغاریہ، سربیا، اور بوسنیا)، مشرق وسطیٰ کے بڑے علاقے (جیسے شام، عراق، لبنان، اردن، اور سعودی عرب کے کچھ حصے) اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقے (جیسے مصر، لیبیا، تیونس اور الجزائر) شامل تھے، نیز قفقاز کے بعض حصے بھی شامل تھے۔ یہ وسیع اور متنوع علاقے عثمانی سلطنت کو 16ویں اور 17ویں صدی کے دوران تاریخ کی سب سے طاقتور اور دیرپا سلطنتوں میں سے ایک بناتے تھے۔
قرون وسطیٰ میں، یورپ زیادہ تر فیوڈل ریاستوں میں منقسم تھا، جہاں مرکزی حکومت کمزور تھی، شرح خواندگی کم تھی اور علمی ترقی سست تھی، جبکہ وہ علاقے جو بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکہ بنے، وہاں مقامی قبائل کی مختلف سماجیات موجود تھیں، جن کا یورپ یا اسلامی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یورپی علماء اور مسافر علم حاصل کرنے کے لیے بغداد، قرطبہ اور قاہرہ جیسے مسلم مراکز کا رخ کرتے تھے، جہاں کے کتب خانے اور ادارے طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور قدرتی علوم میں علم کو محفوظ اور فروغ دیتے تھے۔ عربی متون کا لاطینی میں ترجمہ، خاص طور پر تولیڈو جیسے مقامات میں، یورپ کو اس اعلیٰ علمی مواد تک رسائی فراہم کرتا تھا، جس نے نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک اہم بنیاد رکھی۔ قرون وسطیٰ کے دوران (تقریباً 5ویں تا 15ویں صدی)، موجودہ امریکہ کے علاقے میں کوئی مرکزی ریاستیں، یونیورسٹیاں یا تحقیقی ادارے موجود نہیں تھے اور وہاں یورپ، اسلامی دنیا یا ایشیا کی سائنسی و تکنیکی ترقی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
قرون وسطیٰ کے بعد مسلم حکمرانی کے زوال کی وجوہات میں اندرونی اور بیرونی چیلنجز شامل تھے، جن میں سیاسی انتشار، جانشینی کے تنازعات، اور منگولوں، صلیبی فوجوں اور یورپی طاقتوں کے ہاتھوں علاقوں کے نقصان شامل ہیں۔ اقتصادی مشکلات، تجارت کا کمزور ہونا، سائنسی اور تکنیکی ترقی کی سست رفتاری، اور سماجی و انتظامی ڈھانچوں کی سختی بھی اس میں کردار ادا کرتی تھی، جبکہ یورپی بحری طاقت اور نوآبادیاتی اثر و رسوخ نے مسلم سلطنتوں کی اثر پذیری کو وقت کے ساتھ مزید کم کر دیا۔
دور حاضر تک صورتحال بدل چکی ہے۔ اب یورپ اور امریکہ تحقیق اور جدت میں سب سے آگے ہیں، جس کی بنیاد مضبوط فنڈنگ والی یونیورسٹیاں، جدید انفراسٹرکچر، اور اکیڈمیا، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط تعاون پر ہے۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت بھی اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ہاورڈ، ایم آئی ٹی، سٹینفورڈ، آکسفورڈ، کمیبرج، ایمپریل کالج لندن جیسے ممتاز تعلیمی ادارے جدید تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان خطوں میں خواندگی کی شرح 99 فیصد سے زیادہ ہے۔
مسلم اکثریتی ممالک میں اہم تحقیقی یونیورسٹیوں میں سعودی عرب کی کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، اور ترکی کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی شامل ہیں، جب کہ پاکستان میں قائداعظم یونیورسٹی، نسٹ، جامعہ پنجاب اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سرکردہ یونیورسٹیاں ہیں۔ مسلم دنیا میں سائنسی اور تکنیکی ترقی میں خلائی تحقیق، طب، قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپس میں نمایاں شراکت ہے، تاہم تعلیم اور خواندگی کی شرح ممالک کے درمیان مختلف ہے، جو ترقی اور موجودہ چیلنجز دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان اور مسلم دنیا میں تحقیق، جدت اور اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آغاز سے ہی معیاری تعلیم اور تنقیدی سوچ پر توجہ دی جائے، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے لیے فنڈنگ بڑھائی جائے، اور وسائل شفاف اور میرٹ پر مختص کئے جائیں۔ ماہر فیکلٹی، جدید انفراسٹرکچر، اور تعلیمی آزادی کے حامل عالمی معیار کے ادارے قائم کرنا ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور ذہنی ہجرت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹیوں، صنعت، اور اسٹارٹ اپس کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، کاروباری صلاحیت کی حمایت کرنا، دانشورانہ املاک کا تحفظ کرنا، اور اختراعی مراکز قائم کرنا تحقیق کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ بین الشعبہ جاتی پروگرام، بین الاقوامی شراکت داری، جدید نصاب، اور تحقیق اور عمر بھر سیکھنے کی ثقافت تعلیم اور عالمی مسابقت کو مضبوط کر سکتی ہے۔
(مصنف کا تعارف: ڈاکٹر محمد زاہد رضا، جامعہ پنجاب (لاہور) سے منسلک ماہر تعلیم اور محقق ہیں۔ تحقیقی جرائد میں ان کے کئی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ اخبارات کے لیے مضامین بھی لکھتے ہیں۔ ([email protected]
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے درمیان تعلیم اور کے دوران شامل تھے تعلیمی ا کو فروغ کے ساتھ علم کو کے لیے
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں