اڈیالہ جیل والی سڑک کے اطراف کی آبادیوں میں آج تعلیمی اداروں کی چھٹی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل والی سڑک کے اطراف کی آبادیوں میں آج تعلیمی اداروں کی چھٹی کر دی گئی ہے۔
مقامی ابتظامیہ کی طرف سے مقامی تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان امن و امان کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
آج خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کرنے کے لئے آنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پولیس نے کسی جتھے کو سڑک پر آنے سے روکنے کے لئے خصوصی انتظامات کر لئے ہیں۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
اڈیالہ جیل والی سڑک کے اطراف میں موجود بازار کل بند رہیں گے
گورکھپور اور گردونواح میں موجود تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں مین آج منگل کے روز چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ نجی تعلیمی ادارے بھی آج بند رہیں گے۔
اڈیالہ جیل والی سڑک پر تعینات پولیس نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گورکھپور بازار کے تاجروں کو کل بازار بند رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ تاہم گلیوں مین روز مرہ ضرورت کا سامان شہریوں کو فراہم کرنے کے لئے کریانہ کی دوکانین معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید
اڈیالہ جیل روڈ پر واقع گورکھپور پولیس چیک پوسٹ، دائیگل ناکے، چکری انٹرچینج، اڈیالہ روڈ کے مختلف مقامات پر آٹھ سے زائد پِکٹ لگائی جا چکی ہیں۔ ان ناکوں سے گزر کر کوئی گیر متعلقہ آدمی اڈیالہ جیل روڈ پر آگے نہیں جا سکتا۔ علاقہ کے مکینوں کو بھی سخت چھان بین سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
پولیس کی بھاری نفری تعینات ہو چکی ہے۔ آج منگل کے روز ممکنہ دہشتگردی سے بچنے کے بھی خاص انتظام کئے جا رہے ہیں۔ اڈیالہ روڈ پر آنے والی تمام گاڑیوں کی مکمل چھان بین ہوگی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں کے لئے
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔