پنجاب ٹریفک پولیس متحرک، 24 گھنٹے میں 8 کروڑ 42 لاکھ سے زائد کے جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
فوٹو: فائل
پنجاب ٹریفک پولیس نے 24 گھنٹے میں 63 ہزار 970 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کردیے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے، 24 گھنٹے کے دوران 63 ہزار 970 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کےچالان کیے گئے۔
ترجمان پنجاب ٹریفک پولیس کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر 8 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار 950 روپے کے جرمانے کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق اس دوران 23 ہزار 904 گاڑیاں صوبے کے مختلف تھانوں میں بند کی گئیں، قوانین پر عمل درآمد کےلیے ڈرونز کا استعمال بھی شروع کیا گیا ہے۔
پنجاب ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اورملتان کےعلاقوں میں ڈورنز کا استعمال جاری ہے جبکہ ٹریفک کوئیک فورس کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر1 دن میں 28 ہزار چالان ہوئے جبکہ 4312 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر نے کہا کہ شہری جرمانوں اور قانونی کاروائی سے بچنے کےلیے قوانین پر عمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پنجاب ٹریفک پولیس کے مطابق
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔