ٹریفک کی خلاف ورزیاں؛ 48گھنٹوں میں 7کروڈ12لاکھ روپے سے زائد کے چالان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب بھر میں ٹریفک نظام کی اصلاحات کے نام پر ٹریفک پولیس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 7 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد کے چالان جاری کیے۔ مختلف خلاف ورزیوں پر 76 ہزار سے زائد شہریوں کو چالان کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 1402 ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 11 ہزار 700 افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ ون وے کی خلاف ورزی پر 4 ہزار سے زائد شہریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اسی طرح بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والے 12 ہزار سے زائد موٹر سائیکل سواروں کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے تحت 1397 گاڑیوں کو جرمانے کیے گئے اور متعدد کو بند کر دیا گیا۔کم عمر ڈرائیونگ کے معاملے پر پولیس نے 3 ہزار سے زائد کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائیاں کیں۔
ترجمان نے بتایا کہ غیر نمونہ نمبر پلیٹس استعمال کرنے پر 3875 شہریوں کے خلاف، جبکہ غلط پارکنگ پر 1262 ڈرائیورز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی بڑا آپریشن کیا گیا، جس میں 7200 سے زائد گاڑیوں کے چالان کیے گئے اور کئی گاڑیاں موقع پر ہی بند کر دی گئیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ٹریفک میں رکاوٹ بننے والے نشئی افراد اور بھکاریوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، جس دوران 36 مقدمات درج کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق اس خصوصی مہم کا مقصد شہریوں میں قانون کی پاسداری کو فروغ دینا اور حادثات کی شرح میں کمی لانا ہے، اسی لیے خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔