ایک ارب روپے سے اچھرہ بازار کو ماڈرن مارکیٹ میں تبدیل کیا جائے گا، عون چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے لاہور کے تاریخی بازار اچھرہ کی تزئین نو کا آغاز کردیا ہے، جسے 5 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے آج تاریخی اچھرہ بازار کی ری ویمپنگ کا آغاز کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ لاہور کا پہلا بازار ہے جسے مکمل طور پر ماڈرن ڈیزائن میں تبدیل کیا جارہا ہے اور 5 ماہ میں اس منصوبے کو مکمل کرلیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں کچرا ٹھکانے لگانے کا جدید منصوبہ، رنگدار کوڑے دان لازمی قرار
عون چوہدری کا کہنا تھا کہ اچھرہ بازار تقریباً 100 سال پرانا ہے اور وزیرِاعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق اسے ایک مثالی مارکیٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے اس بازار کو نئے انداز میں تعمیر کیا جارہا ہے اور یہ منصوبہ لاہور ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب کے لیے نمونہ بنے گا۔
انہوں نے وزیرِاعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور اور پنجاب کے لیے وہ فیصلے کر رہی ہیں جو ماضی میں کسی نے نہیں کیے۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ’میگنیفیسنٹ پنجاب‘ میگا ٹورسٹ منصوبہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اپنے ووٹرز کے لیے ایسے ترقیاتی منصوبے لانا ان کے لیے باعثِ خوشی ہے۔
عون چوہدری نے خیبر پختونخوا کے عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پشاور بھی ایسے ہی ترقیاتی منصوبے اور معیاری سڑکیں دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ شرانگیزی، گالی گلوچ اور دھونس کی سیاست کو ختم کرکے ترقی کے راستے کو اپنانا ہوگا۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں کوئی منصوبہ محکمہ ماحولیات کی منظوری کے بغیر شروع نہیں ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کاحکم
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے اور ہمیں ایک فرد واحد کے لیے انتشار پیدا کرنے کے بجائے ملک کی مجموعی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ان کے دل کے بہت قریب ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا ہر بچہ معیاری تعلیم، صحت اور بہتر ترقی کے مواقع حاصل کرے۔
مزید پڑھیں: دھی رانی پروگرام، اب تک پنجاب حکومت کتنے جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہے؟
ایک سوال پر عون چوہدری نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔
گورنر راج سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے انہیں کوئی معلومات نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اچھرہ بازار پشاور پنجاب خیبر پختونخوا عون چوہدری گورنر راج لاہور وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز وزیراعلیٰ مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اچھرہ پشاور خیبر پختونخوا عون چوہدری گورنر راج لاہور وزیراعلی مریم نواز انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اچھرہ بازار عون چوہدری جائے گا ہے اور کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔