پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پشاور میں گزشتہ روز فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا ہے۔
مقدمے کے مطابق دہشت گردی کی یہ کارروائی 3 موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے کی، جنہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق پہلے حملہ آور نے داخلی گیٹ پر پہنچتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور سیکورٹی لائن متاثر ہوئی۔ خودکش دھماکے کے فوراً بعد دیگر 2 حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور عمارت کے اندرونی حصوں تک پہنچنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔
سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے 27 سے زائد خالی خول اور دھماکے سے متعلق شواہد برآمد کیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔
واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ دہشت گردوں کے اس حملے کا مقصد ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور سرکاری املاک کو تباہ کرنا تھا۔
واقعے میں 3 بہادر جوان شہید جب کہ 11 زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور مزید بڑے نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زخمی اہلکاروں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں طبی عملہ خصوصی نگہداشت میں رکھے ہوئے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور تربیت یافتہ اور کسی منظم گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو نہ صرف حملے کے محرکات بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ شہر میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ہیڈکوارٹر کے اطراف میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔