کرکٹ کی تاریخ کا انوکھا واقعہ، گیند کو 2 بار مارنے پر بلے باز آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست منی پور کے شہر سورت میں رانجی ٹرافی پلیٹ لیگ میچ میں بلے باز لامابام اجے سنگھ کرکٹ کی تاریخ میں انوکھے طریقے سے آؤٹ ہونے والے بیٹر بن گئے، وہ ’گیند کو دو بار مارنے‘ پر آؤٹ قرار دیے گئے۔
کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کے مطابق بھارتی بلے باز لامابام اجے سنگھ نے باؤلر آرین بورا کی گیند کا دفاع کیا لیکن گیند ہلکی رفتار سے واپس اسٹمپ کی طرف جارہی تھی جسے بیٹر نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بیٹ سے روکا۔
گراؤنڈ میں موجود عینی شاہدین کے مطابق گیند دوسری بار بیٹ سے لگنے کے وقت واقعی اسٹمپ کی طرف جا رہی تھی، اور ایسے میں وکٹ بچانے کے لیے دوسرا شاٹ قانون کے مطابق جائز ہوتا ہے، مگر امپائر کے فیصلے پر بلے باز سمیت کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
ایک آفیشل کے مطابق ’بلے باز بیند کو پیڈ سے بھی روک سکتا تھا، لیکن اس نے بیٹ استعمال کیا، اور اسی لمحے امپائر دھرمیندر بھاردواج نے اسے ’ہٹ دی بال ٹواس‘ پر آؤٹ قرار دیا۔
ایم سی سی قوانین کی شق 34.
رانجی ٹرافی میں آخری بار اس طرح آؤٹ کا انوکھا واقعہ06-2005 میں پیش آیا تھا، جب مقبوضہ کشمیر کے کپتان دھرُوو مہاجن کو جھاڑ کھنڈ کے خلاف اسی طرح آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔
اس سے قبل رانجی کرکٹ میں صرف 3 بیٹر کو اس طرح آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔
آندھرا کے کے بوانا (64-1963)
مقبوضہ کشمیر کے شاہد پرویز (87-1986)
تمل ناڈو کے آنند جارج (99-1998)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آؤٹ قرار دیا کے مطابق بلے باز
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔