WE News:
2026-06-02@20:48:04 GMT

پشاور خودکش حملہ، کب کیا ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

پشاور خودکش حملہ، کب کیا ہوا؟

پولیس نے پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشتگردی واقعے کی ایک ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس میں حملہ آوروں کے آنے، حملہ کرنے، اندر داخل ہونے اور ہلاک ہونے تک کی تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیسے ناکام ہوا؟

پیدل خودکش نے حالات کا جائزہ لیا اور مرکزی گیٹ پر حملہ کیا۔ پشاور اور انسداد دہشتگردی پولیس کے مطابق پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر دہشت گردی واقعے میں حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری میں ہونے والی صبح کی پریڈ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تصاویر حاصل کی گئی ہیں۔

’پیدل حملہ آور نے مرکزی گیٹ پر حملہ کیا‘

رپورٹ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور پیدل آیا تھا جو سنہری مسجد روڈ صدر سے ایف سی ہیڈکوارٹر پہنچا۔

مزید پڑھیے: پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، تینوں خودکش حملہ آور ہلاک، 3 اہلکار شہید

پولیس کو حاصل سی سی ٹی وی فوٹیجز سے اس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ تفتیشی ٹیم کے ایک افسر نے بتایا کہ ویڈیو فوٹیج میں ایک مشکوک شخص دکھائی دیا ہے جو پیدل تھا اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ کے سامنے بی آر ٹی اسٹاپ پل کے ساتھ کچھ دیر کھڑا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا جبکہ خاص قسم کے جوگرز پہنے ہوئے تھے۔ مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران مرکزی گیٹ پر خودکش حملہ آور کے اعضا اور پاؤں ملے جن کے جوتے ویڈیو والے جوتوں سے میچ کر گئے جبکہ اعضا ڈی این اے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیدل حملہ آور جب مرکزی گیٹ پر پہنچا تو سیکیورٹی سخت تھی اور اندر پریڈ جاری تھی۔ حملہ آور نے مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 3 اہلکار موقعے پر ہی شہید ہو گئے جبکہ کچھ راہ گیر زخمی بھی ہوئے۔ حملہ تقریباً صبح 8 بج کر 10 منٹ پر ہوا۔

مزید پڑھیں: ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیوں؟ حکومت اور پی پی پی اتحاد ختم؟ پی پی پی دوڑ سے باہر؟

پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد 2 مسلح خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی۔

’پریڈ کے دوران حملہ کرنا چاہتے تھے’

پولیس افسر نے بتایا کہ دو حملہ آور ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہوتے ہی فائرنگ کرنے لگے جس کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

ایف سی اہلکاروں نے بکتر بند گاڑی کا استعمال کرکے حملہ آوروں کو مرکزی گیٹ کے قریبی احاطے تک محدود کر دیا اور بکتر بند گاڑی سے دونوں حملہ آوروں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بڑا حملہ تھا، تینوں حملہ آور خودکش تھے لیکن بکتر بند گاڑی کے استعمال سے بڑے نقصان سے بچا لیا گیا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بی ڈی یو ٹیم نے خودکش جیکٹس کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

سی ٹی ڈی نے حملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ دونوں ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں تحویل میں لے لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنوں: ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ، 6 جوان شہید، 5 دہشتگرد ہلاک

 

پولیس کے مطابق شہر کے تمام داخلی راستوں پر لگے کیمرے چیک کیے جا رہے ہیں تاکہ سہولت کاروں تک بھی پہنچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ تفصیلات پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ ٹائم لائن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ تفصیلات پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر اور ایف سی ہیڈکوارٹر ایف سی ہیڈکوارٹر پر مرکزی گیٹ پر نے بتایا کہ خودکش حملہ حملہ آوروں حملہ آور انہوں نے پر حملہ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا