data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کے تازہ ترین مرحلے میں کینیڈا کے چار صوبوں سے تعلق رکھنے والے 53 ہزار سے زائد کینیڈین سکھوں نے ووٹ ڈالے، ریکارڈ ٹرن آؤٹ مشرقی پنجاب کی بھارت سے آزادی کی حمایت کرتا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ غیر سرکاری عالمی ووٹنگ مہم علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) کی جانب سے منظم کی گئی تھی، اونٹاریو، البرٹا، برٹش کولمبیا اور کیوبیک کے سکھ ووٹرز میگ نیب کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئے، جہاں منفی درجۂ حرارت، برف باری اور تیز ہواؤں کے باوجود دو کلومیٹر طویل قطاریں لگی رہیں، سہ پہر 3 بجے پولنگ کے سرکاری اختتام پر بھی ہزاروں لوگ لائن میں موجود تھے، جس پر حکام نے تمام ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے عمل کو جاری رکھا۔

سکھس فار جسٹس نے اسے کینیڈا کا خالصتان پر ریفرنڈم‘ قرار دیا اور اسے کینیڈا کی حکومت کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے طریقۂ کار پر عوامی ردِعمل کے طور پر پیش کیا، گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی حکومت نے اسی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ جی-20 تجارتی مذاکرات کیوں کیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کینیڈین انٹیلیجنس ایجنسیاں بھارتی سرکاری اہلکاروں پر قتل کی سازشوں، غیر ملکی مداخلت اور کینیڈین شہریوں کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکی ہیں۔

سکھس فار جسٹس کے ماہانہ خطاب جنرل کونسل گُرپتونت سنگھ پنن نے ریفرنڈم کو سکھوں کے سیاسی حقوق کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کا حصہ قرار دیا، 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے 41 سال بعد پنجاب آج مودی حکومت کے تحت معاشی نسل کشی کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اندرا گاندھی نے اپنے اقدامات کے سیاسی نتائج بھگتے تھے، سکھس فار جسٹس مودی کی پالیسیوں کی سیاسی، نہ کہ جسمانی شکست چاہتی ہے، بیلٹ، بین الاقوامی جواب دہی، اور خالصتان تحریک کے بڑھتے ہوئے اثر کے ذریعے مودی سرکار کو جواب ہے۔

سکھس فار جسٹس کے رضاکاروں نے اس موقع پر شرکاء سے سوال پوچھا کہ کیا وہ کارنی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر بات چیت جاری رکھی جائے بغیر اس کے کہ برٹش کولمبیا کے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجّار کے قتل پر جوابدہی کا مطالبہ کیا جائے؟ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ نجّار کے قتل میں بھارتی سرکاری ایجنٹ ملوث تھے۔

سکھس فار جسٹس کے مطابق ووٹروں کا ردِعمل بے حد اور تقریباً مکمل طور پر حکومت کی بھارت کے ساتھ تجارتی مصروفیت کے خلاف تھا۔

تنظیم نے کہا کہ ریکارڈ ٹرن آؤٹ نہ صرف پنجاب کی بھارت سے آزادی کے لیے حمایت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ نئی دہلی کے ساتھ اوٹاوا کے رویے پر وسیع عوامی ناراضی کی بھی نشاندہی کرتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

سکھس فار جسٹس کے رہنماؤں نے دوبارہ کہا کہ وہ نجّار کے قتل پر مکمل جوابدہی چاہتے ہیں اور کینیڈا کی کسی بھی ایسی حکومتی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں جو قومی سلامتی ایجنسیوں کی جاری تنبیہات کو نظرانداز کرے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکھس فار جسٹس کے کی بھارت کرتا ہے کے ساتھ

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی