دبئی میں ضرورت مندوں کے لیے مفت گرم کھانے کی اسمارٹ مشینیں نصب
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی نے فلاحی خدمات کے میدان میں ایک اور جدید قدم اٹھاتے ہوئے شہر کی مختلف مساجد کے قریب ایسی اسمارٹ مشینیں نصب کر دی ہیں جو ضرورت مند افراد کو روزانہ مفت گرم کھانا فراہم کریں گی۔ یہ اقدام اوقاف فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبے خبز السبیل کی توسیع ہے، جس کے تحت 2022 سے مستحق افراد کو اسمارٹ مشینوں کے ذریعے مفت تازہ روٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
اوقاف فاؤنڈیشن کے مطابق نئی مشینوں کا ڈیزائن مکمل طور پر جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے، ان میں نصب ڈیجیٹل اسکرین کھانا حاصل کرنے کے مراحل کو نہایت آسان بناتی ہے جبکہ کولنگ سسٹم کھانے کی تازگی اور معیار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
انتظامیہ نے صارفین کے لیے اسمارٹ شناختی نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ہر مستحق شہری یا مزدور روزانہ ایک مرتبہ گرم کھانا حاصل کرسکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام تقسیم کے عمل کو شفاف، منظم اور منصفانہ بنانے کے لیے ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد مستفید ہوسکیں۔
اوقاف دبئی کے سیکرٹری جنرل علی المطوع نے کہا کہ فلاحی منصوبے کو آہستہ آہستہ پورے شہر تک پھیلایا جائے گا، ہمارا مقصد وقف کے نظام کو جدید، مؤثر اور پائیدار بنانا ہے تاکہ امداد باوقار اور آسان طریقے سے مستحقین تک پہنچ سکے۔
ابتدائی طور پر یہ مشینیں شہر کی بڑی مساجد کے قریب نصب کی گئی ہیں جبکہ مستقبل میں ضرورت کے مطابق دیگر علاقوں میں بھی ان کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں