data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران اور پاکستان سے مہاجرین کی ایک ہی دن میں بڑی تعداد افغانستان واپس چلی گئی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ہائی کمیشن برائے امورِ مہاجرین کے مطابق صرف ہفتے کے روز دونوں ہمسایہ ممالک سے مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار افراد اپنے مک واپس پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں میں 2 ہزار سے زائد خاندان شامل تھے، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور وہ افراد بھی تھے جو برسوں سے سرحد پار زندگی بسر کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واپسی کسی ایک مقام سے نہیں بلکہ مختلف سرحدی گزرگاہوں سے بیک وقت ریکارڈ کی گئی۔

کمیشن کی تفصیلات کے مطابق افغان حکام نے سرحدی مراکز پر خصوصی انتظامات کیے ہیں جہاں واپس آنے والے شہریوں کو فوری رہائش کے لیے عارضی ٹھکانے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں خوراک، پینے کا صاف پانی، ابتدائی طبی مدد اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ خاندان محفوظ طریقے سے اپنے علاقوں تک پہنچ سکیں۔

سرکاری نمائندوں کے مطابق حالیہ دنوں میں مہاجرین کی واپسی کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے جس کے باعث انتظامیہ نے اضافی اسٹاف تعینات کیا ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد 60 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں سب سے زیادہ تعداد ایران اور پاکستان میں مقیم ہے۔ ان میں بڑی تعداد غیر دستاویزی افراد کی ہے، جو کئی دہائیوں سے مختلف حالات کے باعث اپنے ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔

افغانستان میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام، روزگار کے محدود مواقع اور کئی خاندانوں کے لیے جنگوں کے مسلسل اثرات نے بیرونِ ملک رہائشیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ واپسی کرنے والے متعدد مہاجرین کے مطابق وہ برسوں بعد اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، مگر مستقبل کے بارے میں اب بھی بے یقینی برقرار ہے۔

سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو معاشی دباؤ، قانونی پابندیوں اور رہائشی اجازت ناموں میں سختی کے سبب پاکستان اور ایران میں مزید قیام جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ بہت سے خاندانوں نے مہاجر کیمپوں اور بستیوں میں سخت حالات کا سامنا کیا، جبکہ چند افراد نے بتایا کہ مقامی قوانین اور کریک ڈاؤن کے باعث انہیں اپنے وطن واپسی کا فیصلہ فوری طور پر کرنا پڑا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بڑی تعداد کے مطابق

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد