ٹیکسٹائل ایشیا نمائش 2025 کا دوسرا دن لاہور ایکسپو سینٹر میں کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق 31 ویں ٹیکسٹائل ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز لاہور ایکسپو سنٹر میں جاری ہے۔ 

تقریب میں وفاقی و صوبائی وزراءکے علاوہ متعدد ملکی اور بین  الاقوامی ماہرین شریک ہوئے۔ ڈے 2 میں ٹیکسٹائل 4.

0 ، اسمارٹ فیکٹریز اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ دی گئی۔

نمائش میں دو ہزار سے زائد عالمی برانڈز، 425 نمائش کنندگان، بین الاقوامی مندوبین اور 57,000 سے زائد تجارتی زائرین شریک ہوئے۔ 

چین، ترکی، یورپ اور آسیان ممالک کی بھی بھرپور شرکت رہی جبکہ ٹیک پارٹنرشپس میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

ایونٹ ای کامرس گیٹ وے پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر اہتمام اور ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک معاونت سے یہ ایکسپو جاری ہے۔ 

اے آئی پر مبنی مشینری، اسمارٹ بُنائی کی مشینیں اور روبوٹکس پروڈکشن کی لائیو ڈیموز پیش کی گئیں اور ٹیکنیکل سیشنز میں ڈیجیٹل پرنٹنگ، پائیدار ڈائز، آٹومیشن اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی فیکٹری نظام پر خصوصی توجہ دی گئی۔ 

منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکسٹائل ایشیا نے مسٹر محمد عزیر نظام نے کہا کہ  ڈے 2 میں سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور دلچسپی پاکستان کی ٹیکسٹائل 4.0 کی کامیاب لیڈرشپ کی عکاس ہے۔

شرکا نے ایس آئی ایف سی کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے باعث بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا بھی اعتراف کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹیکسٹائل ایشیا

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان