ای چالان سندھ کے دیگر شہروں میں کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ای چالان سسٹم نافذ کیے جانے کے بعد شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ یہ نظام سندھ کے دیگر شہروں میں کیوں نافذ نہیں کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام پاور کاسٹ میں ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے ای چالان سسٹم صرف کراچی میں نافذ کرنے اور سندھ کے دیگر شہروں میں نافذ نہ کیے جانے کے سوال کا جواب دیدیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ای چالان سسٹم صرف کراچی میں نافذ ہے اور باقی سندھ میں ہم ایک یا دو ماہ سے ڈمی چالان جاری کر رہے ہیں، جس کے بعد یہ نظام بہت جلد اب صوبے کے دیگر شہروں میں بھی نافذ کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام کا آغاز صرف کراچی میں ہوا اور باقی سندھ میں نہیں، اس سوال کا جواب تو آئی جی سندھ ہی دے سکتے ہیں، میں کراچی کا ڈی آئی جی ہوں، اس لیے کراچی کا ذمے دار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام فی الوقت کراچی میں نافذ ہے، لیکن اسے بہت جلد دیگر شہروں میں بھی نافذ کریں گے، کیوں کہ یہ ترمیم پورے سندھ میں لاگو کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دیگر شہروں میں کراچی میں میں نافذ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ