حافظ نعیم الرحمن نے’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کا اعلان کر دیا، جس کے تحت ملک بھر میں جلسے، جلوس اور دھرنے منعقد کیے جائیں گے۔ سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات بیوروکریسی کے بجائے مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہئیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے رہنماؤں سے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے تحریک کا آغاز کریں،یہ صرف پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی طبقہ اشرافیہ اختیارات پر قابض ہے، جس کے خلاف تحریک چلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام وقت کی ضرورت اور ہمارا اہم مطالبہ ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی پاکستان کی ضرورت ہے، کشمیر اور فلسطین ہماری ریڈ لائن ہیں، ان پر کوئی سمجھوتا قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماعِ عام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک بھر سے لاکھوں شرکاء بھرپور اجتماع کے بعد رخصت ہوئے۔’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کے تحت 50 لاکھ نئے ممبران شامل کیے جائیں گے اور 15 ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی نظام کو آئین میں تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب کے رہنماؤں کو ہدایت دی کہ اسمبلی کے سامنے دھرنے کی تیاری کریں۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم 1973ء کے آئین کو تباہ کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر انتخابات کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس سے عوام کے حکومت بنانے کا حق سلب ہوتا ہے، کسی سیاسی جماعت پر پابندی قابل قبول نہیں۔ نہ ٹی ایل پی پر پابندی لگنی چاہیے اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر عمران خان کو جیل میں رکھا جانا چاہیے۔ ہم حق بات کہیں گے چاہے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کو ناگوار گزرے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان محض ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ہمارے عقیدے کا نام ہے، ہم ہر ممکن طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔ جماعت اسلامی کا کارکن کسی قسم کی قوم پرستی کا شکار نہ ہو،ہم مقامی سیاست ضرور کریں گے لیکن قوم پرستی کی کسی لہر کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں، ہماری لڑائی اس پر قابض طبقہ اشرافیہ سے ہے، پاکستان کسی جرنیل، اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریٹ یا حکومت کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔ اجتماعِ عام میں پنجاب کے کارکنان نے اپنی رہائش گاہیں خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے شرکاء کے لیے وقف کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی تو پنجاب ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں اکثریت جنریشن زی کی ہے، ہم انہیں ساتھ لے کر چلیں گے، ہنر مند بنائیں گے اور اسٹارٹ اپس کے لیے آسان قرضوں کا انتظام کریں گے۔ طبقاتی نظامِ تعلیم کے باعث ان کے لیے آگے بڑھنے کی راہیں مشکل ہو گئی ہیں، ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ انہیں آئی ٹی کی تعلیم دیں گے، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ کھیلوں کی سہولیات فراہم کریں گے اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام متعارف کرائیں گے۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی نے جنریشن زی کے لیے کنیکٹیویٹی پروگرام کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کو متحد کر کے ملک کے بوسیدہ عدالتی نظام کو تبدیل کریں گے۔ آزاد خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو امریکہ کے زیر اثر پالیسیوں سے نکلنا ہوگا کیونکہ اس سے بدامنی پھیل رہی ہے، دوستی اور دشمنی دونوں میں وقار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ افغان حکومت کی ذمے داری ہے کہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور پاکستانی حکام کو بھی افغانستان کے حوالے سے وہی لہجہ اختیار کرنا چاہیے جو دیگر ہمسایوں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ مزید کہا کہ ہم فلسطین میں امن کے حوالے سے ٹرمپ اسپانسرڈ قرارداد کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ قرارداد تسلیم کرنے والوں کی شدید مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی فلسطین پالیسی سے انحراف ہے۔ کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور اسے بھارت کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حقِ خود ارادیت دینا ہی مسئلے کا اصل حل ہے۔ کشمیر پر سمجھوتہ کرنے یا ابراہیم معاہدہ یا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں عوام حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنا دے گی۔کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں، لین دین کے معاملات شفاف رکھیں اور ہر معاملہ اللہ کے حکم کے مطابق تحریر کریں۔ کارکنان کو صلہ رحمی کی نصیحت کی اور کہا کہ رشتوں کو ہر ممکن حد تک نبھانے کی کوشش کریں۔ خود نمائی سے بچنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے انتخابات کے اعلان سے پہلے جماعت اسلامی کا کوئی نامزد امیدوار نہیں ہوگا، ہر کارکن جماعت اسلامی کی نمائندگی کرتا ہے اور امیدواروں کا فیصلہ انتخابات کے وقت ہی کیا جائے گا۔علاوہ ازیں خطاب کے بعد امیر جماعت اسلامی نے رقت آمیز اختتامی دعا کرائی جس میں ملک و قوم کی سلامتی، امن و استحکام، ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ لاکھوں شرکا ہاتھ اْٹھا کر آمین کہتے رہے، جس سے اجتماع گاہ کا ماحول روحانی کیفیت سے سرشار ہو گیا۔ انتظامیہ کے مطابق اختتامی سیشن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد غیر معمولی رہی، جبکہ شرکا نے پورے اجلاس کے دوران مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کریں گے کے خلاف کے لیے کے تحت
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔