کسی کو کوئی استثنا نہیں، پاکستان میں اللہ کا نظام نافذ ہوگا، حافظ نعیم کا اجتماع عام سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسی کو کوئی استثنا نہیں ہے، پاکستان میں اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔
مینارِ پاکستان گراؤنڈ پر منعقدہ اجتماعِ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ کی بنائی ہوئی زمین پر اللہ ہی کا نظام نافذ ہوگا اور کوئی انسان اللہ کے قانون سے بڑا یا طاقتور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں عوام آج اس عہد کی تجدید کر رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی بالادستی قبول نہیں کی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے ملکی سیاسی ڈھانچے اور حکومتی طرزِ عمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھوکے سے اقتدار میں آنے والے بیرونی طاقتوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے لیے کوئی استثنا نہیں ہونا چاہیے، نہ کسی ادارے کے سربراہ، نہ صدر اور نہ وزیرِاعظم کے لیے۔ اب سرداروں، وڈیروں اور بیوروکریسی نہیں، بلکہ اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طاقت یا فارم 47 کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرے گا تو مزاحمت ناگزیر ہوگی۔ جماعت اسلامی میں وراثت اور خاندانی بنیادوں پر قیادت نہیں بنتی، اس لیے وڈیروں اور جاگیرداروں کی سرپرستی میں چلنے والی جماعتیں انقلاب نہیں لا سکتیں۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کو پھانسی دی گئی، لیکن نوجوانوں نے جدوجہد نہیں چھوڑی اور آج وہ بھارت نواز لابی کو شکست دے چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے تعلیم، عدالتی نظام، مقامی حکومتوں، زراعت، صنعت اور مزدوروں کے حقوق پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ صوبائی حکومتوں کے پاس تعلیم کے لیے 2100 ارب روپے کا بجٹ موجود ہے، مگر یہ فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے یکساں نظام تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال اے اور او لیول امتحانات کی مد میں 50 ارب روپے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت کے نئے مقامی حکومتوں کے ایکٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہارس ٹریڈنگ کو نچلی سطح تک لے جانے کی کوشش ہے۔ اس ایکٹ کے خلاف تحریک چلائی جائے گی اور جماعتی بنیادوں پر انتخاب ناگزیر ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ عدالتی نظام عوام کو انصاف دینے کے بجائے انہیں تذلیل کا سامنا کراتا ہے۔ قاضی کورٹس اور مصالحتی کونسلوں کے قیام سے 90 فیصد عدالتی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین خراب نہیں، نظام خراب ہے اور جماعت اسلامی عدل پر مبنی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید تنزلی کا شکار ہے، انڈسٹریل پیداوار منفی ہوچکی ہے اور سرمایہ دار ملک چھوڑ رہے ہیں۔ پیداواری لاگت بڑھنے اور پالیسیوں کی ناکامی کے باعث ایکسپورٹ کم ہوئی ہے اور ملک ٹرننگ پوائنٹ پر کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارپورریٹ سیکٹر کو دی جانے والی زمینیں کسانوں کو ملنی چاہیے تھیں۔ کوآپریٹو نظام کے ذریعے زرعی ترقی ممکن ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک میں نظام کی تبدیلی کے لیے تمام سیاسی کارکنان، نوجوانوں اور خواتین کو دعوت دی جاتی ہے ۔ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد کے ذریعے شعور بیدار کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کل آئندہ لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کا نظام نافذ ہوگا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہوئے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
سٹی 42: 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔
صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔