data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے تحت لاہور مینار پاکستان میں عظیم الشان و تاریخی ملک گیر اجتماع عام بدل دو نظام کا شاندار آغاز ہوگیا۔ملک کے تمام صوبوں سے لاکھوں کی تعداد میں مردو خواتین اس انقلابی اجتماع میں شریک ہیں، مینار پاکستان، اقبال پارک، بادشاہی مسجد کی جگہ تنگ پڑگئی۔شرکاء میں زبردست جوش و خروش اور سرد موسم کے باجود پْر عزم۔ اجتماع عام کا باقاعدہ آغاز قاری وقار احمد کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جب کہ سلمان طارق نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے خطاب سے قبل اجتماع میں شریک لاکھوں افراد اور قائدین نے کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھا۔ حافظ نعیم الرحمن نے لاہور مینار پاکستان میں 21تا 23 نومبر منعقدہ اجتماع عام کے لاکھوں شرکاء سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع عام کا سلوگن بدل دو نظام ہے،ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہونی چاہیے،پاکستان میں موجود دستور قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہونا چاہیے،دستور کے مطابق قرآن و سنت کے منافی کسی بھی قسم کی قانون سازی کسی صورت نہیں کی جائے گی۔78 سال سے موجود ملک پر قابض انگریزوں کے غلاموں،حکمران ٹولے نے قوم کو ناامیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا،جماعت اسلامی قوم کو مایوس نہیں چھوڑسکتی،ہم نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔پورے ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنا حاصل نہیں۔پاکستان کے حکمران سمجھ لیں کہ اگرفلسطین کے مسئلے پر ابراہم ایکارڈ کا حصہ بننے کی کوشش کی گئی تو 25 کروڑ عوام انہیں نشانِ عبرت بنادیں گے،78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرارداد پاکستان کے ساتھ ایک اور قرارداد اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے قرارداد بھی شامل تھی، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، امریکا انسانیت کا کھلا دشمن ہے جس نے ہیروشیما ناگاساکی پر بم باری کی۔ امریکا خود ریڈ انڈین کو قتل کرکے وجود میں آیا تھا، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر وہ قرارداد جو مظلوم کے حق میں ہو اس پر ویٹو کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے مل کر فوج کا ساتھ دیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کی،اگر یہ جنگ 2 روز اور جاری رہتی تو بھارت کو آئندہ کبھی بھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی، ٹرمپ نے جنگ بندی میں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، حکمران بتائیں کہ کشمیر کے مسئلے پر کیوں بات نہیں کی گئی۔ پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اجتماع عام کے تیسرے اور آخری روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ظلم کے نظام کی خلاف ملک میں ہر کونے سے زبردست تحریک شروع کی جائے گی،کل انٹرنیشنل سیشن میں 45 ممالک سے 120مندوبین تشریف لائیں گے۔اجتماع عام سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و ناظم اجتماع عام لیاقت بلوچ اور مرکزی جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج مینار پاکستان 329ایکڑ پر مشتمل چھوٹا پڑگیا، ملک کے تمام صوبوں سے عوام بڑی تعداد میں شریک ہوئے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں کارکنان نے اجتماع عام کے انعقاد میں دن رات ایک کرکے یہ فریضہ انجام دیا ہے، حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی سکرٹری ڈاکٹر حمیرا طارق کی قیادت میں خواتین کے لیے علیحدہ پنڈال سجانے کا انتظام کیا گیا،پاکستان میں موجود کوئی بھی پارٹی اس نوعیت کا اجتماع اور انتظامات منعقد نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ مولانا مودودی نے دین کے اصول کی جانب سب کو یکجا کیا اور بتایا کہ اقامت دین کے بغیر ہم کچھ نہیں کرسکتے،اقامت دین کا مطلب صرف نماز روزہ نہیں بلکہ معاشرتی و معاشی معاملات میں بھی دین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔مولانا مودودی کا لگایا گیا پودا آج پھل دار ہوگیا ہے، آج اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ 84 سال قبل قائم ہونے والی جماعت 74 افراد پر مشتمل تھی۔ جماعت اسلامی محض سیاسی جماعت نہیں جو شخصیات، وصیت، خاندان، اندرونی و بیرونی اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہو۔ ذہنی طور پر تیار ہوجائیں ! جب آپ نظام کو چیلنج کریں گے تو ہر طرح کے حالات آ سکتے ہیں۔جماعت اسلامی کی سیاست ذاتی غرض کے لیے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے نظام کے قیام کے لیے ہے، ہم مسلکوں کا احترام کرتے ہیں فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے،مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر امت کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔مکمل نظام صرف اور اسلام میں ہی ہے، اسلام یہودیوں، عیسائیوں اور ہر مذہب کے لوگوں کو برابر حق دیتا ہے، انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی جسے قوم کا خادم ہونا چاہیے وہ قوم کی حاکم ہوتی ہے،انگریزوں کی غلام اور ان کی نسلیں آج بھی ملک پر مسلط ہیں،چند لوگ جو خود تو بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن قوم کو جاہل بنا کر رکھتے ہیں،20 فیصد لوگوں کی اجارہ داری 80 فیصد لوگوں پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ چند لوگوں کی اجارہ داری قائم ہے اور پاکستان میں کٹھ پتلیاں کام کر رہی ہیں، جماعت اسلامی اسلام کے غلبے کی تحریک ہے۔ کشمیر، فلسطین اور غزہ کے لوگوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے جس نظریے کے مطابق تحریک بنائی اسی تحریک کو نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ مولانا مودودی کی فکر کے مطابق ہم تنظیم و تربیت اور عوامی حمایت کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔ہم زیر زمین نہیں بلکہ برسر زمینی جدو جہد کر کے اقتدار میں آئیں گے۔فارم 47 اور کسی کی آشیرباد سے اقتدار میں نہیں آئیں گے۔جماعت اسلامی میں قوم پرستی اور فرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اجتماع عام میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھی مینار پاکستان لاہور میں مقدمہ پیش کریں گے۔ امریکی غلامی کو چھوڑ کر بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں سے مل کر بات کی جائے۔ اندرون سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوں کا راج ہے۔ پنجاب میں بھی غریب کسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ گندم اور چینی کی امپورٹ کرکے اس میں اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے۔
؎

 

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مینار پاکستان مولانا مودودی پاکستان میں نہیں بلکہ کے مطابق کی جائے نہیں کی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب