data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(نمائندہ جسارت)پاکستان کا سلامتی کونسل میں غزہ کے حوالے سے عالمی فورس پر امریکی قرارداد کی حمایت کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے دوران امریکا کی اسلام دشمنی دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔ نیٹو طرز کا مسلم ممالک کا عسکری اتحاد بننے تک ابلیسی اتحادِ ثلاثہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ رکھے گا۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا سعودی عرب کیساتھ دفاعی معاہدہ کرنا، نان نیٹو اتحادی بنانا اور F-35 طیاروں جیسی مراعات کی فراہمی کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کروانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش مصافحوں، مسکراہٹوں اور بیانات کی شہ سرخیوں میں امریکی مفادات اور تضادات واضح نظر آتے ہیں۔ غزہ میں قیام امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاس ہونے والی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر تنظیم اسلامی نے کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ غزہ میں قیام امن کا فارمولا فلسطینی مسلمانوں کی خواہشات اور امنگوں کا ترجمان نہیں اورحکومتِ پاکستان کا اس قرارداد کی حمایت کرنا انتہائی شرم ناک ہے۔ لہٰذا اس قرارداد کے نتیجے میں پاکستان کو مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل بین الاقوامی استحکام فورس کا ہرگز حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد امن معاہدے سے غزہ میں امن قائم نہیں ہو سکا کیونکہ اس معاہدے کا ایک فریق، ناجائز صہیونی ریاست سرائیل، مسلسل ہٹ دھرمی، وعدہ خلافی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی فورسز کے مظالم کی وجہ سے آج بھی غزہ میں اسپتالوں کے ملبے سے فلسطینی شہدا کی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں۔ جب تک مسلم ممالک متحد ہو کر نیٹو طرز کا عسکری اتحاد نہیں بنائیں گے اس وقت تک اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحاد ثلاثہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھے گا۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی